ہفتہ , فروری 28 2026

رمضان میں وٹامن ڈی کی کمی: خاموش خطرہ

رمضان المبارک میں روزے کے دوران وٹامن ڈی کی کمی ایک ابھرتا ہوا صحت مسئلہ بن رہی ہے، جس سے تھکن، ہڈیوں کی کمزوری اور مدافعتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

رمضان کا مہینہ روحانی تربیت اور جسمانی نظم کا پیغام دیتا ہے، مگر بدلتی روزمرہ عادات بعض اوقات صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ وٹامن ڈی کی کمی انہی پوشیدہ مسائل میں شامل ہے جو روزے کے دوران شدت اختیار کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی اس کمی کا شکار ہوں۔

ماہرین صحت کے مطابق وٹامن ڈی سورج کی روشنی سے حاصل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران زیادہ تر لوگ دن کا وقت گھروں یا دفاتر میں گزارتے ہیں۔ سحری کے بعد آرام اور افطار کے بعد مصروفیات کے باعث دھوپ میں بیٹھنے کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ اس طرزِ زندگی سے جسم میں وٹامن ڈی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں بھی وٹامن ڈی کی کمی عام ہے۔ مختلف طبی مطالعات کے مطابق شہری آبادی کی بڑی تعداد اس کمی کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ محدود دھوپ اور متوازن غذا کی کمی ہے۔ رمضان میں خوراک کے اوقات محدود ہونے سے دودھ، مچھلی، انڈے اور دیگر وٹامن ڈی سے بھرپور اشیا کا استعمال بھی کم ہو سکتا ہے۔

وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ کیلشیم کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی کمی سے ہڈیوں میں درد، پٹھوں کی کمزوری اور شدید تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ بعض افراد میں مزاج میں تبدیلی اور اداسی بھی اس کمی سے جڑی ہو سکتی ہے۔

روزے کے دوران طویل دورانیے تک بھوکا اور پیاسا رہنے سے جسمانی توانائی میں کمی آتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ وٹامن ڈی کی سطح بھی کم ہو تو کمزوری کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ بزرگ افراد، خواتین اور وہ لوگ جو زیادہ تر وقت گھروں میں گزارتے ہیں، زیادہ خطرے میں ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ افطار یا سحری کے بعد چند منٹ کھلی فضا میں گزارنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ہلکی ورزش اور صبح یا شام کی دھوپ جسم میں وٹامن ڈی کی قدرتی پیداوار بڑھا سکتی ہے۔ متوازن غذا میں انڈے، چکنائی والی مچھلی، دودھ اور فورٹیفائیڈ اشیا شامل کرنا بھی اہم ہے۔

اگر کسی فرد کو مسلسل تھکن، ہڈیوں میں درد یا پٹھوں کی کمزوری محسوس ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ خون کے ٹیسٹ کے ذریعے وٹامن ڈی کی سطح معلوم کی جا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر سپلیمنٹس تجویز کرتے ہیں، مگر خود سے ادویات لینا مناسب نہیں۔

رمضان عبادت اور اعتدال کا پیغام دیتا ہے۔ صحت مند معمولات اپنانا بھی اسی توازن کا حصہ ہے۔ مناسب غذا، معتدل دھوپ اور طبی رہنمائی کے ذریعے وٹامن ڈی کی کمی سے بچاؤ ممکن ہے، تاکہ یہ بابرکت مہینہ روحانی اور جسمانی دونوں لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہو۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

26 فروری: ہفتہ وار مہنگائی میں کمی

حساس قیمتوں کے اشاریے میں 26 فروری کو ختم ہفتے کے دوران 0.54 فیصد کمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے