ہفتہ , فروری 28 2026

26 فروری: ہفتہ وار مہنگائی میں کمی

حساس قیمتوں کے اشاریے میں 26 فروری کو ختم ہفتے کے دوران 0.54 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ سبزیوں اور مرغی کی قیمتوں میں نمایاں کمی بنی۔

پاکستان بیورو شماریات نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ 26 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) 0.54 فیصد کم ہوا۔ یہ اشاریہ قلیل مدتی بنیادوں پر مہنگائی کے رجحان کا جائزہ لینے کے لیے مرتب کیا جاتا ہے۔

ایس پی آئی 51 بنیادی اشیائے ضروریہ پر مشتمل ہے۔ ان اشیا کی قیمتیں ملک کے 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے جمع کی جاتی ہیں تاکہ ہفتہ وار قیمتوں کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 29.67 فیصد کمی ہوئی۔ آلو 10.62 فیصد سستے ہوئے جبکہ مرغی کی قیمت میں 9.03 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پیاز 7.44 فیصد اور انڈے 3.43 فیصد سستے ہوئے۔

گندم کے آٹے کی قیمت میں 1.39 فیصد کمی آئی جبکہ روٹی 1.12 فیصد سستی ہوئی۔ چینی کی قیمت میں بھی 0.79 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے صارفین کو جزوی ریلیف ملا۔

دوسری جانب بعض اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ کیلے 4.49 فیصد مہنگے ہوئے جو ہفتہ وار بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ تھا۔ شرٹنگ کی قیمت 1.36 فیصد بڑھی جبکہ ایل پی جی 0.86 فیصد مہنگی ہوئی۔

لہسن 0.81 فیصد اور لانگ کلاتھ 0.70 فیصد مہنگا ہوا۔ مٹن کی قیمت 0.63 فیصد بڑھی جبکہ مسور کی دال 0.47 فیصد مہنگی ہوئی۔ پرنٹڈ لان، ماش کی دال، پاؤڈر دودھ، دہی اور بیف کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

51 اشیا میں سے 13 اشیا یعنی 25.49 فیصد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ 14 اشیا یعنی 27.45 فیصد کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ 24 اشیا یعنی 47.06 فیصد کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

سالانہ بنیاد پر حساس قیمتوں کے اشاریے میں 4.23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی سہ ماہی کے گیس چارجز میں 29.85 فیصد اضافہ سب سے نمایاں رہا۔ گندم کا آٹا سالانہ بنیاد پر 29.51 فیصد مہنگا ہوا جبکہ بجلی کے پہلے سہ ماہی چارجز 17.33 فیصد بڑھے۔

ٹماٹر کی قیمت میں سالانہ 16.83 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد مہنگا ہوا۔ ایل پی جی 13.60 فیصد اور کیلے 11.73 فیصد مہنگے ہوئے۔ بیف، ایندھن کی لکڑی، پاؤڈر دودھ، مٹن اور گڑ کی قیمتوں میں بھی نمایاں سالانہ اضافہ دیکھا گیا۔

اس کے برعکس آلو کی قیمت میں سالانہ 52.55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مرغی 29.55 فیصد سستی ہوئی جبکہ لہسن 26.18 فیصد اور پیاز 25.71 فیصد سستے ہوئے۔ چنے کی دال، انڈے، نمک پاؤڈر اور مسور کی دال کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہفتہ وار بنیاد پر خوراک کی قیمتوں میں کمی سے قلیل مدتی ریلیف ملا ہے، تاہم توانائی نرخوں اور بنیادی اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتیں مجموعی مہنگائی پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں حساس قیمتوں کے اشاریے کا رخ رسد اور حکومتی نرخوں کے فیصلوں سے جڑا رہے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

رمضان میں وٹامن ڈی کی کمی: خاموش خطرہ

رمضان المبارک میں روزے کے دوران وٹامن ڈی کی کمی ایک ابھرتا ہوا صحت مسئلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے