
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے بعد سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس سے براہِ راست دبئی پہنچ گئے
ان کے دورے کا مرکزی مقصد متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات کے ساتھ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) سے متعلق طویل عرصے سے جاری مالی تنازع کو حل کرنا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے میں اسحاق ڈار کی اتصالات کی اعلیٰ انتظامیہ سے اہم ملاقاتیں طے ہیں، تاہم اماراتی حکومتی شخصیات سے ممکنہ ملاقاتوں کے بارے میں باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان ایک اہم خلیجی شراکت دار کے ساتھ رکی ہوئی سرمایہ کاری کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پی ٹی سی ایل۔اتصالات تنازع کی بنیاد
یہ تنازع 2006 کی نجکاری سے جڑا ہے، جب اتصالات نے 2.5 ارب ڈالر میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص خریدے تھے۔ معاہدے کے تحت نیٹ ورک کی توسیع، انفراسٹرکچر کی بہتری اور دیگر مالی ذمہ داریاں شامل تھیں، مگر بعد ازاں پی ٹی سی ایل کو مالی خساروں، ریگولیٹری رکاوٹوں اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا۔
ذرائع کے مطابق اتصالات نے تقریباً 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ایک اسکرو اکاؤنٹ میں روک رکھے ہیں، مؤقف یہ ہے کہ معاہدے کی بعض شرائط پوری نہیں کی گئیں۔ اس معاملے پر کئی برسوں سے مذاکرات اور قانونی کارروائیاں جاری ہیں مگر کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی، جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی اعتماد پر اثر پڑا ہے۔
امارات۔پاکستان سرمایہ کاری تعلقات میں اتار چڑھاؤ
ڈار کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور یو اے ای کے اقتصادی تعلقات میں ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ گزشتہ برس متحدہ عرب امارات نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظامی کنٹریکٹ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی، جو ابتدائی طور پر 1.2 ارب ڈالر کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت کو سرمایہ کاروں کے تحفظات کی علامت سمجھا گیا۔
دوسری جانب حالیہ ہفتوں میں مثبت اشارے بھی سامنے آئے، جب یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورہ پاکستان کے دوران تقریباً 10 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کے اعلانات ہوئے۔ اسی سلسلے میں یو اے ای نے ایک پرانے قرض کو فوجی فاؤنڈیشن کے حصص میں تبدیل کیا، جس کی مالیت 50 کروڑ ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔ اس اقدام کو پاکستان کے دفاع سے منسلک کاروباری ڈھانچے پر اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
علاقائی اور سفارتی تناظر
یہ دورہ ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، یمن کی صورتحال، بحیرہ احمر میں سکیورٹی خدشات اور غزہ تنازع خطے کی معیشتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای حالیہ سفارتی اقدامات میں بھی ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کی شراکت داری کو نئی جہت ملنے کی توقع ہے۔
اسلام آباد میں موجود تجزیہ کاروں کے مطابق اسحاق ڈار کا یہ دورہ محض ایک کارپوریٹ تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں بلکہ اس کے ذریعے پاکستان خلیجی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا چاہتا ہے۔
اگر پی ٹی سی ایل کا یہ معاملہ حل ہو جاتا ہے تو نہ صرف اربوں ڈالر کی رکی ہوئی رقم پاکستان کو مل سکتی ہے بلکہ یہ پیش رفت آئی ایم ایف مذاکرات سے قبل معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم سفارتی اور کاروباری حلقوں کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا یہ دورہ بریک تھرو لاتا ہے یا یہ معاملہ بدستور تعطل کا شکار رہتا ہے۔
UrduLead UrduLead