منگل , جنوری 27 2026

UAE: اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ سے باہر

پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ (IIAP) کے مینجمنٹ آؤٹ سورسنگ کے لیے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات کو ختم کر دیا ہے، کیونکہ ابوظہبی کی جانب سے معاہدے کے تحت کلیدی پارٹنر نامزد کرنے میں بار بار تاخیر ہوئی۔

یہ فیصلہ ملک کی بڑھتی ہوئی پرائیویٹائزیشن پالیسی میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ابتدا میں یو اے ای کے ساتھ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (G2G) فریم ورک کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ کے آپریشنز سونپنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاکہ ملکی اَوی ایشن شعبہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور ماہرین لائے جا سکیں۔

تاہم وفاقی نجکاری ڈویژن اور پرائیویٹائزیشن کے حکام کو ابوظہبی میں مذاکرات کے متعدد دور مکمل ہونے کے باوجود کسی تصدیق شدہ نامزد گورنمنٹ یا کمپنی کی طرف سے حتمی جواب نہیں ملا، جس پر پاکستانی حکام نے یو اے ای کی خاموشی کے باوجود اس معاہدے کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ٹالنے کی کوششیں کیں۔ آخر کار، یو اے ای کے وفد کی جانب سے تسلیم کیا گیا کہ وہ اس مرحلے پر کوئی نامزدگی کنفرم نہیں کر سکتے، جس کے بعد پاکستان نے اس فریم ورک کو مؤثر طور پر ختم کر دیا۔

اس نتیجے کے بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے تین بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں — اسلام آباد، کراچی (JIAP) اور لاہور (ALIAL) — کو اب فعال نجکاری/آؤٹ سورسنگ فہرست پر رکھ دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں، ہوابازی کمپنیوں اور افرادی کمپنیوں کو مقابلہ بازی کے ذریعے منافع بخش شراکت داریوں میں حصہ لینے کی دعوت دینا ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ، جو 2018 میں فعال ہوا، سالانہ کروڑوں مسافروں کو سہولت فراہم کرتا ہے، لیکن مختلف اوقات میں آپریشنل مسائل اور سروس معیار کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اسے جدید انتظام اور موثر مینجمنٹ کے تحت بہتر کارکردگی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان نے اپنے ایوی ایشن شعبے کی اصلاحات کی جانب قدم بڑھا دیے ہیں۔ اس سال پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی بھی نجکاری عمل میں شدت دیکھی گئی، جو ملکی معاشی اصلاحات کے تحت ایک اہم اقدام تھا۔

حالیہ مذاکرات کے دوران یو اے ای نے اسلام آباد کے علاوہ کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کو بھی G2G فریم ورک میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن پاکستان نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے دائرہ صرف اسلام آباد تک محدود رکھنے پر زور دیا۔

آؤٹ سورسنگ منصوبے کے رک جانے کے بعد پاکستان کی پرائیویٹائزیشن ڈویژن اور نجکاری حکام کو اب فعال بولی یا ٹینڈر کے ذریعے بین الاقوامی مارکیٹ سے سرمایہ کاروں اور آپریٹرز کو شامل کرنے کی حکمت عملی پر کام کرنا ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی اَوی ایشن کمپنیوں، یورپی آپریٹرز، یا مشرق وسطیٰ کی بڑی ہوائی کمپنیوں کی دلچسپی پاکستان کے ایئرپورٹس میں موثر مینجمنٹ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھول سکتی ہے۔

یہ تبدیلی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کی اصلاحاتی شرائط، بشمول آئی ایم ایف کے ساتھ مختلف معاہدوں، سے ہم آہنگ ہے۔ نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے ذریعے سرکاری اداروں کے مالی بوجھ کو کم کرنا ملک کی معیشت میں استحکام لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ناقدین نے اس عمل کے دوران بعض خدشات بھی اٹھائے ہیں، جن میں لیبر یونینز کی ملازمتوں کے نقصان، سیکیورٹی خدشات اور قومی اثاثوں پر غیر ملکی کنٹرول کے خطرات شامل ہیں۔ تاہم حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نجی سیکٹر کی مداخلت سے اَوی ایشن انفراسٹرکچر میں جدت، بہتر کارگو سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت ممکن ہو گی۔

اب پاکستان کی توجہ نجکاری عمل کو تیز کرنے، انٹرنیشنل ایکسپریشن آف انٹرسٹ طلب کرنے اور مضبوط مسابقتی بولی کے ذریعے ملک کے ایئرپورٹس میں عالمی معیار کی مینجمنٹ لانے پر ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے