
گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے میں اب تک 67 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ 16 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے۔
کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمارت سے برآمد ہونے والی 6 لاشیں بصری طور پر قابل شناخت تھیں، جبکہ 8 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ سے ہوئی، اور ایک لاش کی شناخت گلے میں پہنے ہوئے لاکٹ کی مدد سے کی گئی ہے۔دوسری جانب گورنر سندھ نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے تاکہ واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
سینئر فائر آفیسر ظفر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عمارت کے تہہ خانے میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی تھی جسے کنٹرول کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کی چھت سے ڈیزل ٹینک اتارنے کے دوران آگ لگ گئی جو بجھا دی گئی۔
ظفر خان نے مزید کہا کہ اب عمارت کا اسٹرکچر شدید کمزور ہو چکا ہے، اور سرچنگ کے دوران ملبے سے مکمل لاشیں نہیں بلکہ صرف ہڈیاں اور انسانی باقیات مل رہی ہیں۔
سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ مزید لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
یہ سانحہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آیا، جہاں آگ نے متعدد منزلوں کو متاثر کیا اور بڑی تعداد میں لوگ پھنس گئے تھے۔
UrduLead UrduLead