
سندھ کے دارالحکومت کراچی کے مصروف ترین علاقے صدر میں واقع چار منزلہ کمرشل عمارت گل پلازہ میں 17 جنوری کی رات تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر شدید آگ لگ گئی، جو 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک بھڑکتی رہی۔ یہ آگ کراچی کی حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی آگ تھی جس نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
ریسکیو ٹیموں نے بدھ کو (21 جنوری) ایک ہی کروکری شاپ (دبئی کروکری) سے تقریباً 30 جلی ہوئی لاشیں نکالیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 60 سے تجاوز کر گئی۔
حکام کے مطابق 85 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو چکا ہے اور مکمل ڈھانچہ کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔آگ کی وجہ ابتدائی طور پر الیکٹریکل شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
گل پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں تھیں جو سامان، کروکری، پلاسٹک، کاسمیٹکس، کپڑے، گھریلو اشیاء اور دیگر سامان فروخت کرتی تھیں۔ آگ نے تقریباً 25 ملین ڈالر مالیت کا سامان اور 100 ملین ڈالر کی پراپرٹی تباہ کر دی، جس سے تقریباً 10,000 افراد کے روزگار متاثر ہوئے ہیں۔دل دہلا دینے والے واقعے میں فائر فائٹر فرقان شوکت (یا فرقان علی) ڈیوٹی کے دوران عمارت کے گرنے سے جاں بحق ہو گئے۔
ابتدائی ریسپانڈرز کو پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ جدید فائر ٹینڈرز موجود تھے۔ 24 سے زائد فائر بریگیڈز، واٹر باؤزرز اور دیگر ٹیمیں 36 گھنٹے سے زائد جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا سکیں۔
ناقدین نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر سنگین غفلت کا الزام لگایا ہے۔ کراچی میں ماضی میں بھی متعدد آگ لگنے کے واقعات ہو چکے ہیں مگر فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے، غیر قانونی تعمیرات، ناکافی ایگزٹس، ناکارہ فائر ایکسٹنگوشرز اور باقاعدہ انسپیکشن نہ ہونے کی وجہ سے ایسے سانحات بار بار رونما ہو رہے ہیں۔
سندھ حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے، متاثرین کے لیے ریلیف پیکیج اور شہر بھر میں فائر سیفٹی آڈٹ کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
متاثرہ خاندانوں اور تاجروں میں شدید غم و غصہ ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش میں تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی امداد کے لیے سرکاری چینلز سے رابطہ کریں۔
UrduLead UrduLead