
کراچی کے مصروف تجارتی علاقے صدر میں واقع چار منزلہ گل پلازہ شاپنگ مال میں جمعہ کو لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔
آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان میں لگی جہاں آتش گیر مصنوعی پھول رکھے گئے تھے، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت میں پھیل گئی۔
اس سانحے میں کم از کم 29 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں فائر فائٹر فرقان علی بھی شامل ہیں، جبکہ 65 افراد تاحال لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے 36 گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن میں 26 فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا، تاہم شدید آگ اور عمارت کی کمزور ساخت کے باعث گل پلازہ کے کچھ حصے منہدم ہو گئے۔
متاثرہ شاپنگ کمپلیکس میں 1,100 سے زائد چھوٹی بڑی، زیادہ تر خاندانی کاروبار پر مشتمل دکانیں قائم تھیں، جو مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئیں۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد لاشیں بری طرح جھلسنے کے باعث ناقابل شناخت تھیں، جس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کا عمل شروع کیا گیا۔ اب تک کئی متاثرین کی شناخت ہو چکی ہے جن میں ایک 15 سالہ لڑکی بھی شامل ہے، جس کی ہلاکت نے شہر بھر میں غم اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
واقعے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے، خاص طور پر اس انکشاف پر کہ شاپنگ مال کے 16 میں سے 14 دروازے واقعے کے وقت بند تھے، جس کے باعث لوگ عمارت میں پھنس گئے اور بروقت باہر نہ نکل سکے۔
مزید برآں، شاپنگ مال میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات کی عدم موجودگی اور ہنگامی راستوں کے ناقص انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات برسوں میں کراچی کے مختلف شاپنگ مالز اور کمرشل عمارتوں میں آگ لگنے کے کم از کم 60 بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود حفاظتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونا شہریوں کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔
سانحے کے بعد سندھ کے وزیراعلیٰ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عدالتی تحقیقات کے قیام اور شہر بھر کی کمرشل عمارتوں اور شاپنگ مالز کے حفاظتی آڈٹ کا بھی اعلان کیا تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کے تعین کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جبکہ متاثرہ تاجروں اور خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کا مزید ضیاع نہ ہو۔
UrduLead UrduLead