
کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل نے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن اور سات بڑے بینکوں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔
ٹربیونل نے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی طرف سے عائد کیے گئے 20 کروڑ روپے کے جرمانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
یہ کیس کمپٹیشن کمیشن کے قیام کے بعد اس کا پہلا بڑا انفورسمنٹ ایکشن تھا جو اپریل 2008 میں شروع ہوا تھا۔
کمیشن نے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن اور سات بڑے بینکوں — حبیب بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سعودی پاک بینک لمیٹڈ (اب ال براقہ بینک)، اٹلس بینک لمیٹڈ (اب سمٹ بینک کا حصہ)، اور نیشنل بینک آف پاکستان — پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اینہانسڈ سیونگز اکاؤنٹس کے مارک اپ ریٹس (سود کی شرح) کو مل کر طے کیا، جو کارٹل تشکیل دینے کے مترادف ہے۔
کمیشن کا موقف تھا کہ اس غیر مسابقتی عمل سے ڈپازٹرز کو مناسب منافع نہیں ملا اور مارکیٹ میں مقابلہ متاثر ہوا۔ اس بنیاد پر پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن پر 3 کروڑ روپے جبکہ ہر بینک پر 2.5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جو کل تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ روپے بنتا ہے۔
ٹربیونل نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد مختصر حکم جاری کیا کہ تمام اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں اور اصل جرمانہ برقرار رہے گا۔ فیصلے کی مکمل وجوہات جلد جاری کی جائیں گی۔یہ فیصلہ کمپٹیشن کمیشن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے، کیونکہ یہ طویل ترین زیر التوا کیس تھا جو تقریباً 18 سال بعد حتمی شکل اختیار کر گیا۔
کمیشن نے حالیہ برسوں میں اپنی قانونی ٹیم کو مضبوط کیا اور زیر التوا مقدمات کی مؤثر پیروی کی، جس کے نتیجے میں اب تک 70 فیصد سے زائد کیسز عدالتوں میں فیصلہ ہو چکے ہیں۔
کمپٹیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے اس موقع پر کہا کہ “یہ فیصلہ اس اصول کی توثیق کرتا ہے کہ انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے مگر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی ادارہ غیر مسابقتی رویے پر ہمیشہ بچ نہیں سکتا۔” یہ فیصلہ بینکنگ سیکٹر میں منصفانہ مقابلے کو فروغ دینے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
UrduLead UrduLead