
مری اور شمالی پاکستان کے علاقوں میں شدید برفباری نے تباہی مچا دی ہے۔ مری ایکسپریس وے سمیت اہم سڑکیں برف سے ڈھک گئیں جس کے باعث متعدد گاڑیاں پھنس گئیں۔
انتظامیہ نے رہائشیوں کے علاوہ تمام افراد کے لیے مری میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وزیر سہیل بھرت کی قیادت میں جاری امدادی کارروائیوں کی تعریف کی ہے۔
پاک فوج کے جوانوں نے 100 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا اور مختلف علاقوں جیسے تیراہ ویلی اور سوات میں امداد فراہم کی۔2022 کے سانحہ مری کا حوالہ دیتے ہوئے حکام نے احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے تاکہ کوئی بڑا نقصان نہ ہو۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ تک مزید برفباری کا امکان ہے۔ ضروری سفر کرنے والوں کو ٹائر چینز استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔ سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین معلومات چیک کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
UrduLead UrduLead