منگل , جنوری 27 2026

اسلام آباد میں ووٹ کی طاقت: پولنگ بوتھ سے میئر تک کا نیا سفر

اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2026 نے شہری کے ووٹ کو براہِ راست اختیار سے بالواسطہ طاقت میں بدل دیا ہے، جہاں فیصلہ سازی عوام سے منتخب نمائندوں کے محدود حلقے تک منتقل ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں ایک شہری جب پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالتا ہے تو اس کا یہ ووٹ اب پہلے جیسا سیدھا اور طاقتور نہیں رہا۔ نیا اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2026 اس ووٹ کے سفر، اثر اور منزل تینوں کو بدل دیتا ہے۔ یہ تبدیلی محض قانونی نہیں بلکہ سیاسی اختیار، نمائندگی اور جواب دہی کے پورے تصور کو ازسرِنو ترتیب دیتی ہے۔

پرانے نظام میں، جس کی بنیاد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 اور اس میں مجوزہ 2024 ترامیم تھیں، اسلام آباد کو ایک واحد میٹروپولیٹن کارپوریشن کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ پورے شہر کے لیے ایک میئر اور ایک مرکزی کونسل ہوتی تھی۔ شہری کا ووٹ یونین کونسل سے لے کر میئر کے انتخاب تک نسبتاً براہِ راست کردار ادا کرتا تھا۔ نیا آرڈیننس اس ڈھانچے کو توڑ دیتا ہے۔

2026 کے آرڈیننس کے تحت اسلام آباد کو تین علیحدہ ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ان کی حدود قومی اسمبلی کے حلقوں کے ساتھ جوڑ دی گئی ہیں۔ بظاہر یہ انتظامی اصلاح لگتی ہے، مگر عملی طور پر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ اب شہر ایک اکائی کے بجائے تین نیم خودمختار حصوں میں بٹ گیا ہے، جہاں ہر ٹاؤن کا اپنا میئر اور اپنی کونسل ہوگی۔

اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ حکمرانی زیادہ مقامی ہو جائے گی۔ مختلف سیکٹرز اور علاقوں کے مسائل مختلف نوعیت کے ہیں۔ الگ ٹاؤن کارپوریشنز ان مسائل پر بہتر توجہ دے سکتی ہیں۔ تاہم مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب شہر کی مشترکہ ضروریات سامنے آتی ہیں۔ پانی کی تقسیم، سیوریج، بڑی سڑکیں اور پبلک ٹرانسپورٹ ایسے معاملات ہیں جو انتظامی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔

ایک میئر کے بجائے تین میئرز کے ہوتے ہوئے مجموعی شہری منصوبہ بندی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ ہم آہنگی اور باہمی تعاون اس نظام کی کامیابی کے لیے لازمی ہوگا، مگر آرڈیننس اس حوالے سے کوئی مضبوط میکنزم واضح نہیں کرتا۔

اصل اور بنیادی تبدیلی ووٹر کی سطح پر آتی ہے۔ پرانے قانون کے تحت شہری یونین کونسل میں نو جنرل ممبران کے ساتھ ساتھ چیئرمین اور وائس چیئرمین کو بھی براہِ راست ووٹ دیتا تھا۔ یہ براہِ راست انتخاب ووٹر اور مقامی قیادت کے درمیان واضح تعلق قائم کرتا تھا۔ ووٹر جانتا تھا کہ اس کی یونین کونسل کا سربراہ کون ہے اور وہ اس کا منتخب کردہ ہے۔

نئے آرڈیننس میں یونین کونسل کو ایک ملٹی ممبر وارڈ بنا دیا گیا ہے۔ اب ووٹر صرف ایک ووٹ ڈالتا ہے۔ سب سے زیادہ ووٹ لینے والے نو امیدوار جنرل ممبران منتخب ہو جاتے ہیں۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب عوام نہیں بلکہ یہی نو منتخب کونسلرز اپنے اندر سے کرتے ہیں۔

یہاں ووٹ کی طاقت بنیادی طور پر بدل جاتی ہے۔ اب چیئرمین کی جواب دہی براہِ راست ووٹر کے بجائے اپنے ساتھی کونسلرز کے سامنے ہوتی ہے۔ اختیار عوام سے کھسک کر ایک محدود منتخب گروہ کے پاس چلا جاتا ہے۔ یہ براہِ راست جمہوریت سے ایک بالواسطہ اور فلٹر شدہ نظام کی طرف واضح قدم ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈز کے ذریعے ہوگا۔ یعنی ہر کونسلر سب کے سامنے ہاتھ کھڑا کر کے ووٹ دے گا۔ اس سے پارٹی نظم و ضبط مضبوط ہو سکتا ہے، مگر آزادانہ رائے اور دباؤ سے پاک فیصلہ سازی پر سوال اٹھتے ہیں۔

ووٹ کا سفر یہیں نہیں رکتا۔ یونین کونسل کا چیئرمین خود بخود متعلقہ ٹاؤن کارپوریشن کا جنرل ممبر بن جاتا ہے۔ ٹاؤن کارپوریشن کے جنرل ممبران عوام براہِ راست منتخب نہیں کرتے۔ وہ دراصل وہی چیئرمین ہوتے ہیں جنہیں پہلے مرحلے میں کونسلرز نے چنا تھا۔

ٹاؤن کارپوریشن میں مخصوص نشستوں پر خواتین، کسان یا مزدور، تاجر، نوجوان اور غیر مسلم نمائندے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ تمام نشستیں بھی براہِ راست ووٹ سے نہیں بلکہ جنرل ممبران کے ہاتھ کھڑا کرنے سے پُر ہوتی ہیں۔ اس مکمل ایوان کے بعد میئر اور دو ڈپٹی میئرز کا انتخاب بھی اسی بالواسطہ اور اعلانیہ طریقے سے کیا جاتا ہے۔

یوں ایک شہری کے ووٹ اور میئر کے درمیان کئی فلٹر آ جاتے ہیں۔ ووٹر جنرل ممبران چنتا ہے۔ جنرل ممبران چیئرمین چنتے ہیں۔ چیئرمین ٹاؤن کارپوریشن بناتے ہیں۔ ٹاؤن کارپوریشن میئر منتخب کرتی ہے۔ ووٹر اس سلسلے کی پہلی کڑی تو ہے، مگر آخری فیصلے میں اس کا کوئی براہِ راست کردار نہیں رہتا۔

وفاقی حکومت کے اختیارات بھی اس نظام میں نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔ آرڈیننس 2026 کے تحت اگر بلدیاتی حکومت تحلیل ہو جائے یا فعال نہ رہے تو ایڈمنسٹریٹر کی تقرری کی مدت پر کوئی حد نہیں۔ پہلے یہ مدت چھ ماہ تک محدود تھی۔ اب ایک غیر منتخب بیوروکریٹ غیر معینہ مدت تک شہر چلا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی حکومتی ہدایات کو بلدیاتی اداروں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مالی خودمختاری بھی محدود ہو گئی ہے۔ کوئی نیا مقامی ٹیکس لگانے یا شرح بدلنے کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔

مجموعی طور پر نیا نظام اسلام آباد میں اختیار کو نچلی سطح سے اوپر اور منتخب اداروں سے وفاقی کنٹرول کی طرف منتقل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ شہری کا ووٹ اب بھی اہم ہے، مگر اس کی طاقت براہِ راست فیصلے سے زیادہ بالواسطہ اثر تک محدود ہو گئی ہے۔

آخر میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا یہ نظام مقامی مسائل کے بہتر حل کا ذریعہ بنے گا یا شہری کو اپنے ہی منتخب نظام سے مزید دور کر دے گا۔ ووٹ اب بھی پہلی کڑی ہے، مگر فیصلہ اب اس کے ہاتھ میں نہیں رہا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے