
پنجاب پولیس نے سوشل میڈیا پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والے صارفین کے لیے واضح انتباہ جاری کر دیا ہے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، غلط، من گھڑت یا غیر مصدقہ خبروں، پوسٹس، اے آئی جنریٹڈ میمز اور ویڈیوز کو ری ٹویٹ، ری پوسٹ، فارورڈ یا شیئر کرنا فیک نیوز پھیلانے کے زمرے میں آتا ہے اور یہ قابلِ سزا جرم ہے۔
ترجمان نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیِ اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے، لیکن یہ آزادی عدلیہ، ریاست، ملکی سلامتی، سیکیورٹی اداروں یا کسی فرد کے خلاف کردار کشی، ہرزہ سرائی اور جھوٹ پر مبنی مواد کی اجازت نہیں دیتی۔
سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات کو ویورشپ بڑھانے، ذاتی مفادات یا پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف قانون فوری طور پر حرکت میں آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی فرد یا ادارے کی کردار کشی اخلاقی طور پر غلط اور قانونی طور پر سنگین جرم ہے۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فیک نیوز، جھوٹی پوسٹس، اے آئی میمز اور مصنوعی ویڈیوز کی تشہیر یا شیئرنگ سے گریز کریں تاکہ قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔
پنجاب پولیس نے زور دیا کہ سوشل میڈیا پر ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔ “Verify Before Share” کے اصول پر عمل کریں اور انتشار پھیلانے والے مواد سے دور رہیں۔ قانون کی بالادستی اور ریاست کے تحفظ کے لیے پنجاب پولیس پرعزم ہے۔
UrduLead UrduLead