منگل , جنوری 27 2026

PET سے نکلنے والے مائیکرو پلاسٹک سے نقصان

تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق پلاسٹک کی بوتلوں، فوڈ پیکنگ اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء سے نکلنے والے مائیکرو پلاسٹک (خاص طور پر PET یعنی پولی تھیلین ٹیرفیتھالیٹ) براہ راست لبلبے (pancreas) کے خلیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہ چھوٹے پلاسٹک کے ذرات جسم میں داخل ہو کر لبلبے میں چربی جمع ہونے، سوزش (inflammation) اور پروٹین کی سطح میں تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں، جو میٹابولک مسائل جیسے ذیابیطس، انسولین ریزسٹنس اور پیانکریاٹائٹس کا سبب بن سکتے ہیں۔پ

ولینڈ اور اسپین کے محققین کی جانب سے سور (pigs) پر کی گئی تحقیق (جو انسانی لبلبے کی ساخت اور کام سے بہت ملتی جلتی ہے) میں پایا گیا کہ PET مائیکرو پلاسٹک کی کم اور زیادہ مقدار کے سامنے آنے سے لبلبے میں پروٹین کی تعداد متاثر ہوتی ہے۔ کم مقدار میں 7 اور زیادہ مقدار میں 17 پروٹینز کی سطح تبدیل ہوئی۔

اس سے لبلبے میں چربی کی غیر معمولی جمع (fat accumulation) اور سوزش بڑھتی ہے، جو خلیوں کی موت (cell death) کا باعث بن سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ ذرات لبلبے کے کلیدی افعال جیسے انسولین کی پیداوار اور میٹابولزم کو خراب کرتے ہیں۔ پچھلی تحقیقوں میں بھی مائیکرو پلاسٹک کو ذیابیطس، ہارمونل مسائل، کینسر اور دیگر بیماریوں سے جوڑا گیا تھا، لیکن یہ مطالعہ پہلی بار براہ راست لبلبے پر زہریلے اثرات (toxic effects) کو ثابت کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اب پانی، خوراک، ہوا اور روزمرہ کی مصنوعات میں ہر جگہ موجود ہیں۔ پلاسٹک کی بوتلوں سے پانی پینا، گرم کھانا پلاسٹک میں گرم کرنا یا استعمال شدہ پلاسٹک کے برتن استعمال کرنا ان ذرات کی نمائش بڑھاتا ہے۔

حکام اور ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں اور پیکنگ کا استعمال کم کریں، شیشے یا سٹیل کے برتن استعمال کریں، اور ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں تاکہ صحت کے سنگین خطرات سے بچا جا سکے۔

یہ تحقیق BMC Genomics اور دیگر جرائد میں شائع ہوئی ہے اور مائیکرو پلاسٹک کو ایک ابھرتا ہوا صحت کا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

‘سانول یارپیا’ کے خوشگوار اختتام پر فینز تقسیم

جیو ٹی وی کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پرائم ٹائم ڈرامہ سیریل سانول …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے