Related Articles

وفاقی تعلیمی بورڈ نے میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج جاری کر دیے۔ امتحانات میں 2 لاکھ 92 ہزار 831 طلبہ نے شرکت کی، جبکہ نقل کے 86 کیسز رپورٹ ہوئے۔
فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) نے نہم اور دہم جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا۔
نتائج کے اعلان کی تقریب میں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ بورڈ حکام نے امتحانی عمل اور نتائج سے متعلق تفصیلات بھی پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ خوشی ہے، کیونکہ یہ وہ موقع ہے جہاں سے نوجوانوں کی کامیابیوں اور روشن مستقبل کا آغاز ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انسان خود کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو حالات بھی اس کے حق میں نہیں بدلتے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 40 برسوں میں دنیا مزید تیزی سے تبدیل ہوگی، اس لیے نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ علم مومن کی میراث ہے اور اس میراث کو اپنی قومی اقدار اور روایات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں ایک مثبت تبدیلی واضح طور پر نظر آ رہی ہے، جہاں طالبات مسلسل نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال وفاقی تعلیمی بورڈ کے امتحانات میں ٹاپ 10 پوزیشنز میں سے 7 طالبات نے حاصل کیں، جو تعلیم میں خواتین کی بڑھتی ہوئی کامیابی اور صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
حکام کے مطابق رواں سال نہم اور دہم کے سالانہ امتحانات میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 92 ہزار 831 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ امتحانات کے دوران نقل کے 86 کیسز رپورٹ ہوئے۔
امتحانات کے شفاف انعقاد کے لیے ملک بھر میں ایک ہزار 6 امتحانی مراکز قائم کیے گئے۔ ان مراکز پر 2 ہزار 12 سپروائزری عملہ اور 6 ہزار 996 انویجی لیٹرز تعینات کیے گئے تاکہ امتحانی عمل کو منصفانہ اور منظم بنایا جا سکے۔
بورڈ حکام نے بتایا کہ امتحانی پرچوں کی جانچ کے لیے 4 ہزار 855 اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں، جبکہ اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 10 ہزار 706 اساتذہ نے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔
تقریب کے دوران حکام نے امتحانی نظام میں شفافیت، نگرانی اور جدید انتظامی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ مستقبل میں بھی امتحانات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
UrduLead UrduLead