بدھ , جولائی 29 2026

FBISE کی جانب سے طلبہ کے نام جاری کرنے پر تحفظات

ماہرین نے نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ

وفاقی تعلیمی بورڈ کی جانب سے ناجائز ذرائع استعمال کرنے والے طلبہ کے نام، رول نمبرز اور سزاؤں پر مشتمل نوٹیفکیشن جاری کیے جانے پر ماہرین تعلیم، ماہرین نفسیات اور والدین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (FBISE) کی جانب سے سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (SSC) سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کے ساتھ ناجائز ذرائع استعمال کرنے والے طلبہ کے نام، رول نمبرز اور سزاؤں پر مشتمل نوٹیفکیشن جاری کیے جانے پر تعلیمی حلقوں، والدین اور ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں امتحانات کے دوران نقل یا دیگر ناجائز ذرائع استعمال کرنے والے متعدد طلبہ کے مکمل نام، رول نمبرز اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں متعلقہ پرچوں کی منسوخی، جرمانے اور بعض کیسز میں آئندہ امتحانات میں شرکت پر پابندی بھی شامل ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نویں جماعت (پارٹ ون) کے 24 جبکہ دسویں جماعت (پارٹ ٹو) کے 62 طلبہ و طالبات ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے مرتکب قرار دیے گئے، جن کے خلاف بورڈ کی متعلقہ کمیٹی نے امتحانی قواعد کے تحت کارروائی کی۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھنا اور بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کرنا بورڈ کی ذمہ داری ہے، تاہم کم عمر طلبہ کے نام اور دیگر شناختی معلومات سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے عام کرنا بچوں کے بنیادی حقوق، رازداری اور ذہنی صحت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں بورڈز صرف ناجائز ذرائع استعمال کرنے والے طلبہ کی مجموعی تعداد اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی سے آگاہ کرتے تھے، جبکہ متعلقہ امیدواروں کو انفرادی طور پر فیصلوں سے مطلع کیا جاتا تھا۔ ان کے بقول موجودہ طرز عمل سے طلبہ کو غیر ضروری سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ کم عمر طلبہ کی شناخت کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے ان پر دیرپا نفسیاتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے طلبہ ذہنی دباؤ، احساسِ محرومی، ڈپریشن، خود اعتمادی میں کمی، سماجی تنہائی اور بعض صورتوں میں تعلیم چھوڑنے جیسے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

والدین نے بھی اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے نام منظر عام پر آنے سے نہ صرف طلبہ بلکہ پورا خاندان معاشرتی دباؤ اور شرمندگی کا سامنا کرتا ہے، جبکہ بعض والدین کو دوبارہ امتحانات، ٹیوشن اور دیگر اخراجات کی صورت میں اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

تعلیمی ماہرین نے فیڈرل بورڈ کے کنٹرولر امتحانات سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کی شناخت پر مشتمل نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے اور آئندہ ایسے معاملات میں ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس میں امتحانی قوانین پر سختی سے عمل درآمد بھی برقرار رہے اور بچوں کے وقار، رازداری اور مستقبل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی احتساب اور بچوں کے بنیادی حقوق کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

IPPs کو 7,275 ارب روپے کی کیپیسٹی ادائیگیاں

سینیٹ کمیٹی میں نیپرا نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے