Related Articles

پاکستان میں شدید گرمی اور حبس کے موسم میں لیموں سے تیار کی جانے والی روایتی شکنجی (شربتِ شکنجبین) نہ صرف جسم کو ٹھنڈک پہنچانے والا مشروب سمجھی جاتی ہے بلکہ پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال احتیاط اور اعتدال کے ساتھ ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق لیموں میں موجود وٹامن سی، پوٹاشیم اور قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں پانی کی کمی کو کم کرنے، مدافعتی نظام کو بہتر بنانے اور گرمی کے اثرات سے بچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اگر شکنجی میں چینی کی مقدار کم رکھی جائے تو یہ عام افراد کے ساتھ ساتھ بعض دل کے مریضوں کے لیے بھی ایک بہتر مشروب بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) دل پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مناسب مقدار میں پانی اور قدرتی مشروبات کا استعمال اس خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
البتہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بازار میں فروخت ہونے والی کئی شکنجیوں میں زیادہ چینی، نمک یا مصنوعی فلیورز شامل کیے جاتے ہیں، جو دل کے مریضوں، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گھر میں تیار کی گئی شکنجی زیادہ محفوظ انتخاب ہے، جس میں ایک گلاس ٹھنڈے یا نارمل پانی میں ایک لیموں کا رس، بہت کم یا بالکل نہ ہونے کے برابر چینی، اور اگر ڈاکٹر نے نمک سے منع نہ کیا ہو تو صرف معمولی مقدار میں نمک شامل کیا جا سکتا ہے۔ پودینہ یا تلسی کے چند پتے شامل کرنے سے ذائقہ اور تازگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دل کے مریضوں کے لیے احتیاطی تدابیر
- اگر ہائی بلڈ پریشر ہے تو نمک والی شکنجی سے پرہیز کریں یا ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کریں۔
- ذیابیطس کے مریض چینی کے بجائے بغیر میٹھے یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ متبادل مٹھاس استعمال کریں۔
- گردوں کے مریض یا ایسے افراد جنہیں پوٹاشیم محدود رکھنے کی ہدایت ہو، لیموں اور دیگر غذاؤں کے استعمال سے پہلے معالج سے مشورہ کریں۔
- اگر آپ دل کی بیماری کے لیے ڈائیوریٹکس (پیشاب آور ادویات) یا دیگر ادویات استعمال کر رہے ہیں تو روزانہ پانی اور مشروبات کی مقدار ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق رکھیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شکنجی دل کے امراض کا علاج نہیں بلکہ ایک صحت بخش مشروب ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے متوازن طریقے سے استعمال کیا جائے۔ اس کے ساتھ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، تازہ پھل اور سبزیاں کھانا، نمک اور چکنائی کا کم استعمال، باقاعدہ ورزش اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ اہم ہے۔
طبی ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ گرمی کی شدت کے دوران پانی کی کمی سے بچنے کے لیے قدرتی مشروبات کو ترجیح دیں، مگر کسی بھی دائمی بیماری، خصوصاً دل، گردوں یا ذیابیطس کے مریض اپنی خوراک اور مشروبات کے بارے میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead