اتوار , جولائی 19 2026

QAU میں انڈرگریجویٹ داخلہ ٹیسٹ کی رول نمبر سلپس جاری

ملک بھر میں یونیورسٹی طلبہ کی تعداد میں کمی تشویش کا باعث

قائداعظم یونیورسٹی (QAU) نے انڈرگریجویٹ پروگراموں میں داخلے کے لیے انڈرگریجویٹ اسٹڈیز ایڈمیشن ٹیسٹ (USAT) کی رول نمبر سلپس جاری کر دی ہیں۔ داخلہ ٹیسٹ اتوار، 26 جولائی 2026 کو منعقد ہوگا، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی رول نمبر سلپس ڈاؤن لوڈ کر کے مقررہ وقت پر امتحانی مرکز پہنچیں۔

یہ داخلہ مرحلہ ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں مسلسل کمی کا رجحان سامنے آ رہا ہے، جس نے ملک کی ممتاز سرکاری جامعات، بشمول قائداعظم یونیورسٹی، کے لیے بھی نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کی جانب سے پاکستان اکنامک سروے 2025 کے اعدادوشمار پر مبنی حالیہ تجزیے کے مطابق، ملک بھر میں یونیورسٹیوں میں داخل طلبہ کی تعداد اپنے عروج کے بعد نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں یونیورسٹیوں میں طلبہ کی مجموعی تعداد 22 لاکھ 30 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم 2024-25 میں یہ تعداد کم ہو کر 19 لاکھ 60 ہزار رہ گئی، یعنی تین برسوں میں تقریباً 2 لاکھ 62 ہزار طلبہ یونیورسٹی نظام سے باہر ہو گئے، جو 11.8 فیصد کمی کے برابر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2014-15 سے 2020-21 تک اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، جب یونیورسٹیوں میں طلبہ کی تعداد 13 لاکھ سے بڑھ کر 22 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس دوران نئی جامعات، اضافی کیمپس اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں اضافے نے داخلوں میں نمایاں کردار ادا کیا، تاہم اس کے بعد رجحان الٹ گیا۔

ماہرین تعلیم کے مطابق طلبہ کی تعداد میں کمی کی اہم وجوہات میں بلند مہنگائی، ٹیوشن فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی، خاندانوں کی کمزور ہوتی مالی استطاعت، بیرون ملک تعلیم کا بڑھتا رجحان، نجی جامعات کے درمیان بڑھتا مقابلہ اور روزگار کے بدلتے تقاضے شامل ہیں۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی جیسی ملک کی صفِ اول کی تحقیقی جامعات بھی اب ان بدلتے ہوئے حالات سے متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف داخلوں کی تعداد متاثر ہوگی بلکہ تحقیق، تدریس اور جامعات کی مجموعی مسابقتی صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج صرف یونیورسٹیوں میں نشستوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کو عام شہری کی پہنچ میں رکھنا، اسے روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا، صنعت و جامعات کے روابط مضبوط کرنا، وظائف میں اضافہ کرنا اور طلبہ کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ نوجوان دوبارہ اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب ہو سکیں۔

اس تناظر میں 26 جولائی کو ہونے والا قائداعظم یونیورسٹی کا انڈرگریجویٹ داخلہ ٹیسٹ صرف ایک معمول کی داخلہ سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش وسیع تر چیلنجز کی بھی عکاسی کرتا ہے، جہاں طلبہ کی گھٹتی ہوئی تعداد مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے ایک اہم سوال بن چکی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

دل کے مریضوں کے لیے مفید یا نقصان دہ؟

پاکستان میں شدید گرمی اور حبس کے موسم میں لیموں سے تیار کی جانے والی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے