
شی جن پنگ کا مصنوعی ذہانت پر امریکی غلبے کو چیلنج
چین نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے شعبے میں عالمی تعاون اور ضابطہ سازی کے لیے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کا اعلان کر دیا ہے، جسے ماہرین عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی پالیسی سازی میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار اور امریکی اثرورسوخ کو چیلنج کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی ترقی عالمی تعاون کے ذریعے آگے بڑھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ “مصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک کی سولو پرفارمنس نہیں بلکہ عالمی تعاون کی ایک مشترکہ سمفنی ہونی چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے نام پر اے آئی کی ترقی کو محدود کرنے یا ایک ملک کے مفادات کو دوسروں پر ترجیح دینے کی پالیسی کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
29 ممالک پر مشتمل نیا عالمی اتحاد
چین نے 16 جولائی کو WAICO کے باضابطہ قیام کا اعلان کیا، جس کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 29 ممالک شامل ہیں، جن میں پاکستان، روس، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، جنوبی افریقہ اور سینیگال سمیت کئی ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔
چین کے مطابق اس تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور منصفانہ استعمال کو فروغ دینا، بین الاقوامی تعاون بڑھانا اور عالمی سطح پر اے آئی کے لیے مشترکہ ضابطے تشکیل دینا ہے۔
ترقی پذیر ممالک پر خصوصی توجہ
شی جن پنگ نے کہا کہ چین ترقی پذیر ممالک، خصوصاً افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھے گا تاکہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند طاقتور ممالک تک محدود نہ رہے اور نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے “تاریخی ناانصافیاں” جنم نہ لیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت ہمیشہ انسانی نگرانی میں رہنی چاہیے اور اس کے لیے مؤثر قوانین، تکنیکی نگرانی، قبل از وقت انتباہی نظام اور ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار ضروری ہیں۔
چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ
چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت اور جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسابقت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ امریکہ نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت جدید چپس اور حساس ٹیکنالوجی کی چین کو برآمدات پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ چین ان اقدامات کو اپنی تکنیکی ترقی روکنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی اہم معدنیات اور دوہری استعمال (Dual-use) والی ٹیکنالوجی کی بعض برآمدات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
عالمی ضابطہ سازی میں چین کا کردار مضبوط ہونے کا امکان
تجزیہ کاروں کے مطابق WAICO کے قیام سے چین کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مصنوعی ذہانت سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بعض عالمی سائبر اور اے آئی پالیسی فورمز میں محدود کردار اختیار کرنے کے بعد چین اس خلا کو پُر کرتے ہوئے خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی نظم و نسق میں ایک اہم قائد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث دنیا بھر میں اس کے ضابطہ کار، سلامتی، فوجی استعمال، ڈیٹا کے تحفظ اور اخلاقی اصولوں سے متعلق بحث تیزی سے جاری ہے، اور ایسے میں WAICO کا قیام عالمی اے آئی گورننس میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead