اتوار , جولائی 19 2026

دفاعی تعاون کے معاہدے میں توسیع پر مذاکرات

توانائی اور سرمایہ کاری بھی زیرِ غور

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کو وسعت دینے کے لیے ابتدائی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، جبکہ ان مذاکرات کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور امریکی ایران کشیدگی کے باعث مذاکرات کی رفتار اور نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کویت پاکستان کے ساتھ ایسا جامع دفاعی تعاون چاہتا ہے جو گزشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے سے مماثلت رکھتا ہو۔ مبینہ طور پر کویت کی خواہش ہے کہ پاکستان دفاعی تربیت، مشترکہ فوجی مشقوں، فضائی دفاع، ڈرونز، جنگی طیاروں اور دیگر دفاعی سہولیات میں تعاون بڑھائے۔

تاہم پاکستانی حکام کے مطابق اس مرحلے پر کسی بھی قسم کے جنگی دستے کویت بھیجنے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ ایک سکیورٹی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ کویت کی خواہشات کا دائرہ بہت وسیع ہے، لیکن پاکستان اس وقت جنگی افواج کی تعیناتی پر آمادہ نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان 2023 سے دفاعی تربیت اور مشترکہ فوجی مشقوں پر مبنی ایک محدود دفاعی تعاون پہلے سے موجود ہے، تاہم اب دونوں ممالک اس تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان دفاعی تعاون کے بدلے کویت سے توانائی کے شعبے میں تعاون، تیل کی فراہمی، ایندھن کے ذخائر میں اضافے اور سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ اطلاعات کے مطابق کویت پاکستان میں بانڈڈ فیول اسٹوریج کے قیام کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سرکاری سطح کے ڈیزل سپلائی معاہدے کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک حالیہ برسوں میں امریکہ پر دفاعی انحصار کم کرنے کے لیے متبادل شراکت داروں کی تلاش میں ہیں۔ پاکستان کی مضبوط فوجی صلاحیت، مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان اور جنگی طیاروں کی تیاری، اور خلیجی ممالک کے ساتھ طویل دفاعی تعلقات اسے خطے میں ایک اہم دفاعی شراکت دار بناتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ترکی، پاکستان اور سعودی عرب بھی ایک الگ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مسودے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ بحرین بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی طرح اردن نے دفاعی سازوسامان کی خریداری اور فوجی تربیت کے شعبے میں تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی نئے دفاعی انتظام میں ضرورت سے زیادہ ذمہ داریاں لینے سے گریز کرنا چاہیے۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی سے وابستہ جنوبی ایشیا کے محقق محمد فیصل کے مطابق پاکستان کو اپنے علاقائی مفادات اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور کویت کی وزارت اطلاعات نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

دل کے مریضوں کے لیے مفید یا نقصان دہ؟

پاکستان میں شدید گرمی اور حبس کے موسم میں لیموں سے تیار کی جانے والی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے