بدھ , مئی 13 2026

QAU احتجاج پانچویں روز میں داخل، کشیدگی برقرار

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان جاری کشیدگی پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جہاں طلبہ اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور تاحال کسی پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔

یہ احتجاج اپریل کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب فیس ادا نہ کرنے والے بعض طلبہ کو امتحانات میں بیٹھنے سے روک دیا گیا، جس پر مختلف شعبہ جات خصوصاً جینڈر اسٹڈیز کے طلبہ نے شدید ردعمل دیا۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے ڈیپارٹمنٹ، ڈین، ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز اور وائس چانسلر آفس سے رجوع کیا، مگر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ احتجاجی مقام پر پہنچے، جہاں مبینہ طور پر تلخ کلامی اور جھڑپیں ہوئیں۔ طلبہ تنظیموں نے انتظامیہ پر سخت رویے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ایک طالب علم کا اجرک بھی اتارا گیا، جسے انہوں نے ثقافتی توہین قرار دیا۔ بعد ازاں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کو بھی کیمپس میں طلب کر لیا گیا۔

طلبہ تنظیمیں، جن میں قائدین اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور مہران اسٹوڈنٹس کونسل شامل ہیں، نے کیمپس کے مختلف مقامات خصوصاً ٹرانسپورٹ پوائنٹ پر دھرنے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن ہے اور اس کا مقصد طلبہ کے حقوق، عزت نفس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے مسائل صرف فیسوں تک محدود نہیں بلکہ ہاسٹل کی کمی، ٹرانسپورٹ مسائل، ناقص انفراسٹرکچر اور اسکالرشپس کی قلت بھی بڑے چیلنجز ہیں، جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور بعض نوٹیفکیشنز میں حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم احتجاج کے باعث عملی طور پر ٹرانسپورٹ اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

اگرچہ طلبہ رہنما احتجاج کو پرامن قرار دے رہے ہیں، لیکن کشیدگی میں اضافے اور ممکنہ تصادم کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ تاحال دونوں فریقین کے درمیان کوئی بامعنی مذاکرات یا پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

یہ صورتحال قائداعظم یونیورسٹی میں انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان دیرینہ مسائل اور اعتماد کے فقدان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ماہرین کے مطابق مسئلے کے حل کے لیے فوری اور مؤثر مکالمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مالی خسارہ 9 ماہ میں 856 ارب روپے تک پہنچ گیا

مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان کی مالی صورتحال شدید دباؤ کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے