
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں کسی بھی سرجیکل آپریشن سے قبل ایچ آئی وی (ایڈز) اسکریننگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ سرنجز کے دوبارہ استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔
یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں سامنے آئی، جو چیئرمین مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزارت صحت حکام نے ایچ آئی وی سے متعلق بریفنگ ان کیمرہ دینے کی درخواست کی، تاہم کمیٹی ارکان نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کھلے اجلاس میں بریفنگ جاری رکھنے پر زور دیا۔
حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے 61 ہزار مریض زیر علاج ہیں، جبکہ 16 ہزار سے زائد مریض علاج کے دوران غائب ہو چکے ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ اسکریننگ کے عمل میں وسعت ہے۔ 2020 میں 49 مراکز پر تقریباً 38 ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی تھی، جبکہ 2025 تک ٹیسٹنگ مراکز کی تعداد بڑھ کر 97 ہو گئی جہاں تین لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور 14 ہزار سے زیادہ کیسز مثبت سامنے آئے۔
کمیٹی ارکان نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ سرنجز کا دوبارہ استعمال قرار دیا اور اس پر سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس پر وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 10 سی سی سمیت کسی بھی سرنج کے دوبارہ استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ کی جانب سے پاکستان کو 65 ملین ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں سے صرف 3.9 ملین ڈالر وزارت صحت کو ملے ہیں جبکہ باقی 61 ملین ڈالر دو غیر سرکاری تنظیموں کو دیے جا رہے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی ارکان نے سفارش کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ ادارے تفصیلی بریفنگ دیں تاکہ اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
UrduLead UrduLead