یو ایف جی نقصانات میں بتدریج کمی

پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جہاں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے دونوں گیس کمپنیوں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر غور کر رہی ہے، جبکہ ایک آزاد کنسلٹنٹ نے یو ایف جی نقصانات میں بتدریج کمی کی تجویز دی ہے۔
اوگرا نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کی درخواستوں پر سماعت کے لیے 12 مئی کو لاہور اور 13 مئی کو کراچی میں عوامی سماعتیں مقرر کی ہیں۔ دونوں کمپنیوں نے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بالترتیب تقریباً 21 فیصد اور 121 فیصد تک ٹیرف بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
اوگرا نے قبل ازیں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ایل این جی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اپریل میں ہونے والی سماعتیں ملتوی کر دی تھیں۔ تاہم قانون کے تحت ریگولیٹر کو 30 جون سے کم از کم 40 روز قبل فیصلہ جاری کرنا لازم ہے تاکہ حکومت یکم جولائی سے نئی قیمتوں کا اطلاق کر سکے۔
حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی وعدہ کیا ہے کہ گیس نرخوں میں بروقت ردوبدل کیا جائے گا تاکہ گردشی قرضہ مزید نہ بڑھے، جو پہلے ہی 3 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق اوگرا کے مقرر کردہ کنسلٹنٹ KPMG تاثیر ہادی اینڈ کمپنی نے تجویز دی ہے کہ یو ایف جی یعنی گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات کی شرح کو بتدریج کم کیا جائے۔ تجویز کے مطابق مالی سال 2027 میں یہ شرح 6.5 فیصد رکھی جائے اور اسے کم کرتے ہوئے 2031 تک 5.5 فیصد تک لایا جائے۔
اس کے ساتھ SNGPL کو 0.5 فیصد اور SSGCL کو 1.7 فیصد اضافی رعایت دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ مقامی آپریشنل چیلنجز کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس طرح SNGPL کے لیے یو ایف جی کی مجموعی حد 2027 میں تقریباً 7 فیصد اور 2031 میں 6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ SSGCL کے لیے یہ شرح 2027 میں 8.2 فیصد سے کم ہو کر 2031 میں 7.3 فیصد تک آ سکتی ہے۔
اس وقت گیس نرخوں میں مجموعی نظامی نقصانات کی اجازت تقریباً 7.6 فیصد ہے، جبکہ اصل نقصانات SNGPL کے لیے 8.8 فیصد اور SSGCL کے لیے 13.6 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جو کارکردگی کے چیلنجز کو ظاہر کرتے ہیں۔
کنسلٹنٹ نے 2016 کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ECC) کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرانسمیشن نقصانات کو زیادہ سے زیادہ 0.5 فیصد تک محدود رکھا جانا چاہیے، جبکہ ڈسٹری بیوشن نقصانات اصل بنیادوں پر چارج کیے جائیں۔ تاہم RLNG کے لیے واضح معیار موجود نہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔
اسی وجہ سے ری گیسفائیڈ ایل این جی کی قیمت میں تقریباً 1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافہ ہو چکا ہے، جو گھریلو گیس کی قیمت کے قریب پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب SNGPL نے اپنی گیس کی قیمت 1,853 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 2,084 روپے کرنے کی درخواست دی ہے، جس میں ایل این جی ڈائیورژن کی لاگت بھی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اوگرا کا آئندہ فیصلہ نہ صرف صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کا تعین کرے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں مالی استحکام، گردشی قرضے کے کنٹرول اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے حصول پر بھی اثرانداز ہوگا۔
UrduLead UrduLead