
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایکٹنگ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے طلبہ کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے جبکہ طلبہ کی جانب سے کلاسز کا بائیکاٹ بدستور جاری ہے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب فیس ادا نہ کرنے والے طلبہ کو امتحانات میں شرکت سے روک دیا گیا، جس کے خلاف مختلف طلبہ تنظیموں نے احتجاج شروع کیا۔ احتجاج کے دوران وائس چانسلر سیکیورٹی کے ہمراہ موقع پر پہنچے جہاں مبینہ طور پر دونوں فریقین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران ایک طالب علم کا اجرک زبردستی اتارا گیا، جسے انہوں نے ثقافتی توہین قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا۔ مظاہرین نے وائس چانسلر کے خلاف نعرے بازی کی اور ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام ثقافتوں کا احترام کرتے ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق بعض عناصر نے احتجاج کے دوران فیکلٹی ارکان کے ساتھ بدسلوکی کی اور تعلیمی ماحول کو متاثر کیا۔
وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تدارک کے لیے انہوں نے NCCIA سے رجوع کیا ہے تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
ادھر سندھی سمیت دیگر ایتھنک طلبہ تنظیموں نے احتجاج جاری رکھنے اور کلاسز کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر کیمپس میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔
یہ تنازع کئی روز سے جاری ہے اور اب تک کسی مفاہمت کے آثار سامنے نہیں آئے، جبکہ دونوں فریقین ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں جس سے بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead