
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسکینڈل پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں صرف عمارت کے پیچھے نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے پیچھے بھی جانا چاہیے جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا۔
لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی اتنا بڑا اسکیم ہوا ہو جس میں سیاستدان، بیوروکریٹس، ججز اور بینکرز سمیت ہر شعبے کے لوگ ملوث ہوں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 21 سال تک یہ لوگ پیسہ کھلاتے رہے اور کھاتے رہے۔
محسن نقوی نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ “ون کانسٹی ٹیوشن سے متعلق میرا موقف پہلے دن سے آج تک بالکل وہی ہے۔ سی ڈی اے کا بھی یہی موقف ہے کہ یہ پراجیکٹ غیر قانونی طور پر بیچا گیا۔”
انہوں نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں غیر قانونی اپارٹمنٹس بنائے گئے، اور اس معاملے میں امیر اور غریب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ اب اس معاملے کے لیے کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے، جس کے سامنے حکومت کا وہی مؤقف پیش کیا جائے گا جو شروع سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ قانون کی جیت ہوگی۔ “قانون سب کے لیے برابر ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریب کے لیے ایک قانون ہو اور امیر کے لیے کوئی اور قانون۔”
یہ بیان ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے غیر قانونی تعمیرات اور مبینہ کرپشن کے الزامات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس پر اب ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔
UrduLead UrduLead