
پشاور زلمی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) الیون کے فائنل میں حیدرآباد کنگزمین کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر نو سال بعد دوسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر لیا، جبکہ 130 رنز کا ہدف 16ویں اوور میں حاصل کر لیا گیا۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جس کے بعد حیدرآباد کنگزمین کی ٹیم مشکلات کا شکار رہی اور 18 اوورز میں 129 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ صائم ایوب 54 رنز کے ساتھ نمایاں بیٹر رہے، جبکہ دیگر کھلاڑی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔
پشاور زلمی کی جانب سے ایرون ہارڈی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ناہید رانا نے 2 اور سفیان مقیم اور محمد باسط نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا، ابتدائی دو وکٹیں صرف 7 رنز پر گر گئیں، محمد حارث اور کپتان بابر اعظم بغیر بڑا اسکور کیے آؤٹ ہوگئے۔ کوشل مینڈس اور دیگر بیٹرز بھی جلد پویلین لوٹ گئے، جس سے ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی۔
تاہم پانچویں وکٹ پر ایرون ہارڈی اور عبدالصمد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 85 رنز کی اہم شراکت قائم کی، جس نے میچ کا رخ بدل دیا۔ ہارڈی نے 56 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جبکہ عبدالصمد 48 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

آخر میں فرحان یوسف نے وننگ شاٹ کھیل کر ٹیم کو فتح دلائی اور پشاور زلمی کو نو سال بعد دوبارہ چیمپئن بنا دیا۔
حیدرآباد کنگزمین کی جانب سے محمد علی نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ عاکف جاوید اور حنین شاہ نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
فائنل کے اختتام پر ایرون ہارڈی کو پلیئر آف دی فائنل قرار دیا گیا جبکہ سفیان مقیم کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سفیان مقیم نے ٹورنامنٹ میں 22 وکٹیں حاصل کر کے بہترین بولر کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔

بابر اعظم 588 رنز کے ساتھ ایونٹ کے بہترین بیٹر رہے جبکہ فرحان یوسف بہترین فیلڈر قرار پائے۔ شاداب خان کو بہترین آل راؤنڈر، کوشل مینڈس کو بہترین وکٹ کیپر اور حنین شاہ کو ایمرجنگ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔
فائنل سے قبل قذافی اسٹیڈیم میں رنگا رنگ اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس میں شائقینِ کرکٹ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا رہا، جو پی ایس ایل کی بڑھتی مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
UrduLead UrduLead