
انڈس موٹر کمپنی کو مالی سال 2026 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران منافع میں کمی اور بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث مارکیٹ دباؤ کا سامنا ہے، جہاں نیٹ منافع کا مارجن کم ہو کر 10 فیصد رہ گیا ہے۔
کمپنی کے مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ مارجن 11 فیصد تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منافع بخش صلاحیت میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ اگرچہ مجموعی مارجن 15 فیصد پر برقرار ہے، تاہم یہ سطح بھی اب حریف کمپنیوں، خصوصاً سوزوکی اور سازگار انجینئرنگ، کے مقابلے میں کم سمجھی جا رہی ہے۔
تیسری سہ ماہی کے دوران انڈس موٹر نے 12,750 یونٹس فروخت کیے، جو سالانہ بنیاد پر 40 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ تاہم یہ اضافہ گزشتہ مالی سال 2023 اور 2024 میں طلب میں نمایاں کمی کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ فروخت اب بھی ماضی کے اس عروج سے کم ہے جب کمپنی کی گاڑیوں کی طویل ویٹنگ لسٹس ہوا کرتی تھیں۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق کمپنی کو اب صرف روایتی آٹو اسمبلرز ہی نہیں بلکہ نئے اور جارحانہ حریفوں کا بھی سامنا ہے، جو ڈسکاؤنٹس، جدید فیچرز اور مضبوط مارکیٹنگ کے ذریعے خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ ماضی میں ٹویوٹا برانڈ کی مضبوط وفاداری انڈس موٹر کی طاقت سمجھی جاتی تھی، تاہم اب پاکستانی صارفین تیزی سے ہیول، ہنڈائی، کیا، ایم جی اور چانگن جیسے برانڈز کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
ایس یو وی سیکٹر میں یہ رجحان مزید واضح ہو چکا ہے، جہاں سازگار انجینئرنگ کے تحت ہیول برانڈ نے مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں 5,363 یونٹس فروخت کیے، جو انڈس موٹر کے فورچیونر اور دیگر آئی ایم وی ماڈلز کی مجموعی فروخت سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں قیمتوں میں اضافے کی حکمت عملی روپے کی قدر میں کمی اور سپلائی کی قلت کے دوران مؤثر رہی، تاہم موجودہ حالات میں یہ طریقہ کارآمد نہیں رہا۔ اب مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے کے باعث ڈسکاؤنٹس، آسان فنانسنگ اور جدید ٹیکنالوجی جیسے عوامل فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں، جہاں انڈس موٹر کو پیچھے سمجھا جا رہا ہے۔
اگرچہ کمپنی اب بھی مضبوط مالی بنیاد اور فی شیئر 148 روپے ڈیویڈنڈ کی ادائیگی کے باعث مستحکم دکھائی دیتی ہے، تاہم اس کی مارکیٹ پوزیشن تیزی سے کمزور ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کمپنی کو اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئی پروڈکٹس متعارف کرانے، ہائبرڈ ٹیکنالوجی اپنانے اور مارکیٹنگ حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر انڈس موٹر نے فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے تو بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث اس کی مارکیٹ لیڈرشپ مزید دباؤ میں آ سکتی ہے، اور کمپنی کو طویل مدتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead