
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کو ہاؤسنگ، توانائی، تعلیم اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے متعلق متعدد اہم منصوبوں اور تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی، جس کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنا اور پالیسی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔
اسلام آباد میں وزارت خزانہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی، جہاں وزیر اعظم کے “اپنا گھر پروگرام” کے تحت ہاؤسنگ فنانس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے نظرثانی شدہ فریم ورک کی منظوری دی گئی۔ اس نئے ماڈل میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، اوورسیز پاکستانیوں کی شمولیت اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں کی شرکت شامل ہے تاکہ منصوبے کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
ای سی سی نے مختلف شعبوں کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی، جن میں نارووال میں فیض احمد فیض کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 100 ملین روپے اور اسلام آباد کے دانش اسکول کُری کے آپریشنل اخراجات کے لیے 350 ملین روپے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یوم آزادی اور معرکہ حق تقریبات 2025 کے اخراجات کے لیے 59.6 ملین روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔
صنعتی اور توانائی شعبے میں کمیٹی نے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کے تحت پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن (PAVE) پروگرام کے دوسرے مرحلے کی منظوری دی۔ اس پروگرام میں کارکردگی بہتر بنانے، رسائی بڑھانے اور تھرڈ پارٹی ویریفکیشن کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
ای سی سی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوران تنخواہوں، آپریشنل اخراجات اور واجبات کی ادائیگی کے لیے 2.5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی۔
پٹرولیم ڈویژن کی سمری پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے نیشنل اسٹیل کمپلیکس لمیٹڈ کو گیس کی فراہمی کی اجازت دی تاکہ اس کے آپریشنز بحال کیے جا سکیں۔ گیس کی فراہمی دستیابی اور مقررہ ٹیرف کے مطابق صنعتی استعمال اور پاور جنریشن کے لیے کی جائے گی، جبکہ متعلقہ منظوریوں کے لیے یکساں پالیسی اپنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
بجلی کے شعبے میں ای سی سی نے تمام ڈسکوز، بشمول کے الیکٹرک، کے لیے یوز آف سسٹم چارجز (UoSC) کے یکساں اطلاق کی منظوری دی تاکہ مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (CTBCM) کے تحت برابر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
اجلاس میں مختلف وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں حکومتی پالیسیوں کو ہم آہنگ بنانے اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلے معیشت میں سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی ترقی اور جاری اصلاحاتی عمل کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
UrduLead UrduLead