جمعہ , اپریل 10 2026

اسرائیلی حملوں پر پاکستان کی شدید مذمت

پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری سیز فائر اور عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے

FO condemns atack on Lebanon-26 – 1

اسلام آباد میں جمعرات کو پاکستان نے لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی اور اسے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں معصوم شہری جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

بیان کے مطابق حالیہ کارروائیوں نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے اور انسانی بحران کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ حکام نے زور دیا کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور سیز فائر پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری سیز فائر خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی کا احترام خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔

گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے علاقائی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں سعودی عرب کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے رابطے میں رہنے اور صورتحال پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستان کا مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں حالیہ مہینوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کے مطابق سیز فائر خلاف ورزیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی اداروں کے اندازوں کے مطابق سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پانی اور صحت کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔

تاریخی طور پر لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی نہیں ہے۔ 2006 کی جنگ کے بعد بھی سرحدی تنازعات وقفے وقفے سے جاری رہے ہیں۔ حزب اللہ کی موجودگی اور اس کی اسرائیل کے ساتھ جھڑپیں اس تنازعے کا اہم عنصر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تنازع خطے میں بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اگر اسے فوری طور پر نہ روکا گیا۔

پاکستان ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں سفارتی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ یہی پالیسی فلسطین اور دیگر علاقائی تنازعات میں بھی دیکھی گئی ہے۔

معاشی اور جغرافیائی لحاظ سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں خلل جیسے عوامل عالمی معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں علاقائی استحکام عالمی طاقتوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے۔

پاکستان نے لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔

سعودی عرب سمیت دیگر علاقائی ممالک بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مشترکہ سفارتی دباؤ ہی اس بحران کو ٹالنے میں مدد دے سکتا ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ تمام تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ دیرپا امن صرف بات چیت، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔

بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو یہ تنازع وسیع تر خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

آخر میں پاکستان نے زور دیا کہ عالمی برادری فوری کردار ادا کرے تاکہ جنگ بندی یقینی بنائی جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت جاری رکھے گا اور خطے میں امن کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

UAE، یورو بانڈ ادائیگی یقینی: وزیر خزانہ

وزیر خزانہ نے کہا زرمبادلہ ذخائر مستحکم رہیں گے اور آئی ایم ایف اہداف پورے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے