جمعہ , اپریل 10 2026

2,800 سکھ یاتریوں کو ویزے جاری

بیساکھی 2026 کے لیے 2,800 سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے، جو کشیدہ تعلقات کے باوجود مذہبی روابط کا اہم قدم ہے

Pakistan نے بیساکھی تقریبات کے لیے 2,800 سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے ہیں، جو India کے ساتھ محدود سفارتی تعلقات کے باوجود ایک اہم مذہبی پیش رفت ہے۔

یہ ویزے پاکستان ہائی کمیشن New Delhi کی جانب سے جاری کیے گئے، جس کے تحت یاتری 10 سے 19 اپریل تک پاکستان کے مختلف مقدس مقامات کا دورہ کریں گے۔ حکام کے مطابق یاتری Gurdwara Panja Sahib، Gurdwara Nankana Sahib اور Gurdwara Kartarpur Sahib جائیں گے، جو سکھ مذہب کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔

زیادہ تر یاتری 10 اپریل کو Wagah Border کے راستے پاکستان میں داخل ہوں گے۔ Evacuee Trust Property Board نے رہائش، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ یاتریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

بیساکھی سکھ نئے سال اور فصل کٹائی کے آغاز کی علامت ہے۔ یہ دن 1699 میں Guru Gobind Singh کی جانب سے خالصہ پنتھ کے قیام کی یاد بھی دلاتا ہے۔ اس موقع پر گردواروں میں خصوصی دعائیں، نگر کیرتن، لنگر اور مذہبی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

یہ ویزے 1974 کے پاک بھارت معاہدے کے تحت جاری کیے گئے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک کے شہری مذہبی مقامات کی زیارت کر سکتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ہر سال ہزاروں سکھ یاتریوں کی میزبانی کرتا ہے، تاہم 2025 میں تقریباً 6,500 ویزے جاری کیے گئے تھے، جس کے مقابلے میں اس سال تعداد کم ہے۔

2019 میں کرتارپور راہداری کے قیام نے یاترا کے نظام کو تبدیل کیا۔ اس راہداری کے ذریعے بھارتی سکھ بغیر ویزے کے Gurdwara Kartarpur Sahib جا سکتے ہیں، جہاں Guru Nanak نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ سرکاری اعداد کے مطابق ہر سال لاکھوں یاتری اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

تاہم دیگر اہم مقامات جیسے ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب کے دورے کے لیے اب بھی ویزا درکار ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو تقسیم ہند کے بعد سکھوں کے بیشتر مقدس مقامات پاکستان میں واقع رہ گئے، جس کی وجہ سے ان زیارات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سفارتی روابط 2019 کے بعد محدود ہو گئے ہیں، جیسا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس میں بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود مذہبی سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں تعاون جاری رکھا گیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی سیاحت کے فروغ اور اقلیتی عبادت گاہوں کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران اقلیتی مذہبی مقامات کے لیے فنڈنگ میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا۔

بھارتی سکھ برادری نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ بہت سے یاتریوں کے لیے یہ سفر نہ صرف مذہبی فریضہ بلکہ اپنی تاریخی جڑوں سے جڑنے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔

سکیورٹی کے حوالے سے پاکستانی حکام نے خصوصی انتظامات کیے ہیں، جن میں اضافی نفری، طبی سہولیات اور ہنگامی ردعمل کے نظام شامل ہیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یاتریوں کے قیام کے دوران مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

پاکستان کے ناظم الامور Saad Ahmad Warraich نے یاتریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا سفر پرامن اور روحانی طور پر بھرپور ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے مذہبی تبادلے دونوں ممالک کے درمیان محدود رابطوں کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بیساکھی کے لیے 2,800 ویزوں کا اجرا پاکستان کی جانب سے ایک ایسا قدم ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

UAE، یورو بانڈ ادائیگی یقینی: وزیر خزانہ

وزیر خزانہ نے کہا زرمبادلہ ذخائر مستحکم رہیں گے اور آئی ایم ایف اہداف پورے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے