
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا کہ ایران اب ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا، سوائے اس صورت کے جب ایران پر انہی ممالک کی سرزمین سے حملہ کیا جائے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہمسایہ ممالک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف اس صورت میں کارروائی ہوگی جب ایران پر حملہ کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین سے کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ کشیدگی کے دوران ہمسایہ ممالک پر کیے گئے حملوں پر معذرت بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی ایران کی ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کے کئی ممالک کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں فوجی سرگرمیوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خلیجی ممالک میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا۔
ادھر ایرانی صدر کے اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد قطر کے دارالحکومت دوحا میں ایک اور زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد سیکیورٹی الارم بج اٹھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ آواز فضائی دفاعی نظام کی جانب سے کسی میزائل یا ڈرون کو تباہ کرنے کی تھی۔
تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ واقعہ ایرانی افواج کی کسی کارروائی کا نتیجہ تھا یا دفاعی نظام کی جانب سے کسی ممکنہ خطرے کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوج اور حکومت کے حالیہ فیصلے کے درمیان معلومات کی ترسیل میں ممکنہ تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کے بعد تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین، عمان اور کویت میں موجود امریکی تنصیبات کو ہدف بنانے کی کوشش کی تھی۔ ان کارروائیوں نے خطے میں سلامتی کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر کا حالیہ اعلان خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں صورتحال کا دارومدار ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی رابطوں پر ہوگا۔
UrduLead UrduLead