اتوار , مارچ 8 2026

آن لائن کلاسز کی کوئی تجویز زیر غور نہیں

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ سکولوں میں آن لائن کلاسز شروع کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور تمام تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ سکولوں میں آن لائن کلاسز کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی اور سالانہ امتحانات طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔

رانا سکندر حیات کے مطابق سرکاری سکولوں میں سالانہ امتحانات 9 مارچ سے شروع ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میٹرک کے سالانہ امتحانات 27 مارچ سے شروع ہوں گے جن میں صوبہ بھر کے لاکھوں طلبہ شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میٹرک کے امتحانات کے بعد اپریل کے آخری ہفتے میں کالجوں اور جامعات میں امتحانات کا سلسلہ شروع ہوگا۔ اس کے بعد مئی کے مہینے میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ون اور پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات منعقد کیے جائیں گے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ امتحانات کے بعد نجی تعلیمی اداروں میں او لیول اور اے لیول کے امتحانات بھی شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سالانہ امتحانات کی تیاری کے لیے آن لائن کلاسز مؤثر طریقہ نہیں ہیں۔

رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام کو معمول کے مطابق چلانا حکومت کی ترجیح ہے تاکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل جاری رکھنے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔

پاکستان میں ماضی میں کورونا وبا کے دوران آن لائن تعلیم کا نظام متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت سکولوں، کالجوں اور جامعات میں آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جاتا رہا۔ تاہم ماہرین تعلیم کے مطابق آن لائن نظام میں طلبہ کی کارکردگی اور تدریسی معیار کے حوالے سے کئی چیلنجز سامنے آئے تھے۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں میں روایتی تدریسی سرگرمیوں کو جاری رکھنا زیادہ مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے تعلیمی نظام میں بہتری کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایرانی صدر کا ہمسایہ ممالک پر حملے روکنے کا اعلان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا کہ ایران اب ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے