
ایران کے حالیہ میزائل حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کی پراپرٹی مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور پراپرٹی کی بڑھتی قیمتوں کو اب ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں نے خطے کے محفوظ اور مستحکم ہونے کے تاثر کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھنے لگی ہے۔
دبئی اور ابوظہبی جیسے بڑے شہروں میں تعمیراتی شعبہ بڑی حد تک غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار کرتا ہے۔ تاہم حالیہ حملوں میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس معاشی ماڈل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو پراپرٹی سیکٹر کو سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رئیل اسٹیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ڈویلپرز جن کے منصوبے ماضی میں صرف نقشوں کی بنیاد پر چند گھنٹوں میں فروخت ہو جاتے تھے، اب انہیں خریداروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار فی الحال محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں دبئی میں ہونے والی 65 فیصد پراپرٹی خرید و فروخت ان عمارتوں کی تھی جو ابھی تعمیر کے مراحل میں تھیں۔ اس رجحان کو “آف پلان سیلز” کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان منصوبوں کی کامیابی بڑی حد تک غیر ملکی خریداروں کی مسلسل دلچسپی پر منحصر ہوتی ہے۔
بدھ کے روز مالیاتی منڈیوں میں بھی اس بے چینی کے اثرات دیکھنے میں آئے۔ دبئی اور ابوظہبی کی بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں، جن میں اعمار پراپرٹیز اور الدار پراپرٹیز شامل ہیں، کے حصص کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کمی کو سرمایہ کاروں کے خدشات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
بینکنگ اور مالیاتی شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی نئے تعمیراتی منصوبوں کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت خطے کی صورتحال واضح ہونے تک نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی بینک بھی اس صورتحال میں محتاط ہو گئے ہیں اور نئے قرضے جاری کرنے میں احتیاط برت رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو کچھ تعمیراتی کمپنیوں کو مالی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے اور انہیں اپنے اثاثے فروخت کرنے پڑ سکتے ہیں۔
اگرچہ بعض بڑے ڈویلپرز کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور خطے میں جلد استحکام بحال ہو جائے گا، لیکن معاشی تجزیہ کار اس حوالے سے محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں نئے رہائشی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جس سے ممکنہ طور پر سپلائی زیادہ ہو سکتی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے کورونا وبا کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے ٹیکس فری ماحول، طویل مدتی ویزا پروگرام اور کاروباری اصلاحات متعارف کرائی تھیں۔ ان اقدامات کے باعث دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور امیر افراد نے دبئی اور ابوظہبی میں جائیداد خریدنے میں دلچسپی دکھائی، جس کے نتیجے میں پراپرٹی کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اب ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل صورتحال اس وقت واضح ہوگی جب موجودہ علاقائی کشیدگی کم ہو گی۔ اس کے بعد ہی اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آیا غیر ملکی سرمایہ کار دوبارہ اسی اعتماد کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری جاری رکھیں گے یا نہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کے لیے سب سے اہم عوامل میں استحکام اور امن شامل ہوتے ہیں، اور حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال نے اس اعتماد کو وقتی طور پر کمزور کر دیا ہے۔
UrduLead UrduLead