اتوار , مارچ 8 2026

مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافہ

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے سے ٹرانسپورٹرز کے اخراجات شدید بڑھ گئے ہیں۔

ملک شہزاد اعوان کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 78 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 68 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزل ٹرکوں اور ہیوی ٹرانسپورٹ کا بنیادی ایندھن ہے، اس لیے اس کی قیمت بڑھنے سے مال برداری کے اخراجات فوری طور پر بڑھ جاتے ہیں۔

پاکستان میں سڑکوں کے ذریعے سامان کی ترسیل ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزارت مواصلات اور ٹرانسپورٹ شعبے کے اندازوں کے مطابق ملک میں اندرونِ ملک مال برداری کا تقریباً 90 فیصد حصہ سڑکوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس نظام میں ہزاروں ٹرک اور ٹریلر روزانہ بندرگاہوں، صنعتی مراکز اور زرعی منڈیوں کے درمیان سامان منتقل کرتے ہیں۔

ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے کسی مجبوری کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے تو ٹرانسپورٹرز کو ریلیف دینے کے لیے ٹول ٹیکس اور دیگر سرکاری محصولات میں کمی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بڑھتے ہوئے ٹیکسز ٹرانسپورٹ شعبے کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور حکومتی مالیاتی پالیسیوں کے مطابق ایڈجسٹ کی جاتی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز وفاقی حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہ راست نقل و حمل کے اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔

ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر نے کہا کہ ملک کی نازک معاشی صورتحال کے باوجود ٹرانسپورٹرز درآمدات، برآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتیں نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ عام شہریوں پر بھی بوجھ ڈال رہی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مال برداری کے کرایوں میں اضافے کے اثرات جلد ہی مہنگائی کی نئی لہر کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں کیونکہ اشیائے خورونوش، تعمیراتی سامان اور صنعتی مصنوعات کی قیمتیں نقل و حمل کے اخراجات سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔

ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو ماضی میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف 10 روزہ ملک گیر ہڑتال بھی کرنا پڑی تھی۔ اس دوران پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے جن میں ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔

ان کے مطابق ان مذاکرات میں طے پانے والے معاہدوں پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے کیے گئے وعدے بھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکے۔

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ ملک شہزاد اعوان نے خبردار کیا کہ اگر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک بھر میں ٹرانسپورٹ بند کرنے کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے جس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آن لائن کلاسز کی کوئی تجویز زیر غور نہیں

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ سکولوں میں آن لائن کلاسز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے