پاکستان نے جاپان کو سنسنی خیز مقابلے میں 3–4 سے شکست دے کر آٹھ سال بعد ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم نے مصر میں جاری ورلڈ کپ کوالیفائر کے سیمی فائنل میں جاپان کو 3–4 سے شکست دے کر 2026 کے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ اس کامیابی کے ساتھ پاکستان نے آٹھ سال بعد عالمی ہاکی کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں جگہ بنالی۔
میچ انتہائی سنسنی خیز رہا اور دونوں ٹیموں نے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ جاپان نے ابتدا میں برتری حاصل کرلی تھی اور ایک مرحلے پر اسکور 3–1 تھا۔ تاہم پاکستان نے آخری کوارٹر میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے تین گول اسکور کیے اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
پاکستان کی جانب سے سفیان خان، ابو محمد، محمد عماد اور افراز نے ایک، ایک گول اسکور کیا۔ ٹیم نے آخری لمحات میں دباؤ کے باوجود دفاع مضبوط رکھا اور جاپان کو برتری حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا۔

میچ کے اختتام سے تقریباً چار منٹ قبل جاپان کو پنالٹی اسٹروک ملا جو میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوسکتا تھا۔ تاہم قومی ٹیم کے گول کیپر علی رضا نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنالٹی اسٹروک روک لیا اور پاکستان کی برتری برقرار رکھی۔ اس سیو نے نہ صرف میچ بچایا بلکہ پاکستان کو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی بھی کروا دیا۔
یہ کامیابی پاکستان ہاکی کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھی جارہی ہے۔ قومی ٹیم گزشتہ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکی تھی جبکہ آخری بار پاکستان نے 2018 میں ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی۔ اس سے قبل پاکستان عالمی ہاکی کی سب سے کامیاب ٹیموں میں شمار ہوتا رہا ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم نے اب تک چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ جیتا ہے۔ قومی ٹیم نے 1971، 1978، 1982 اور 1994 میں عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جو اب بھی کسی بھی ملک کی جانب سے سب سے زیادہ فتوحات میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں انتظامی مسائل، مالی مشکلات اور عالمی درجہ بندی میں تنزلی کے باعث پاکستان کی کارکردگی متاثر رہی۔
حالیہ برسوں میں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ ماہرین کے مطابق مصر میں کھیلے جانے والے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں ٹیم کی کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں اب بھی معیاری ہاکی ٹیلنٹ موجود ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی ہاکی ٹیم کو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کیا اور آٹھ سال بعد ورلڈ کپ میں جگہ بنانا بڑی کامیابی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ کامیابی ٹیم ورک اور کھلاڑیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کپتان عماد شکیل بٹ سمیت پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم فائنل بھی جیت کر وطن واپس آئے گی۔
ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 14 اگست سے ہوگا اور اس کی میزبانی بیلجیم اور نیدرلینڈز مشترکہ طور پر کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کی یہ کامیابی ملک میں قومی کھیل کی بحالی کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے، بشرطیکہ حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر مسلسل سرپرستی جاری رکھی جائے۔
UrduLead UrduLead