
رمضان المبارک میں ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ سحری میں ایسی غذائیں شامل کی جائیں جو جسم کو دیر تک توانائی فراہم کریں اور روزے کے دوران کمزوری سے بچائیں۔
ماہرین غذائیت کے مطابق سحری میں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک نہ صرف جسم کو طویل وقت تک بھرا رکھتی ہے بلکہ روزہ داروں کو دن بھر متحرک اور توانا بھی رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری میں پروٹین، فائبر، صحت بخش چکنائی اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال خاص طور پر مفید ثابت ہوتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق سحری میں انڈے، دہی، دودھ، دلیہ، دالیں اور چنے جیسی غذائیں شامل کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ پروٹین اور توانائی کا اچھا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح گندم کی روٹی، جئی (اوٹس) اور براؤن بریڈ جیسے پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں جس سے جسم کو دیر تک توانائی ملتی رہتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل اور سبزیاں بھی سحری کا اہم حصہ ہونی چاہئیں کیونکہ ان میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات موجود ہوتے ہیں۔ کیلا، سیب، کھجور اور کھیرا جیسے پھل اور سبزیاں جسم میں پانی کی کمی کو کم کرنے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سحری کے وقت مناسب مقدار میں پانی پینا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ چائے اور کافی کا استعمال محدود رکھا جائے کیونکہ کیفین جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ تلی ہوئی اور مصالحے دار غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ایسی خوراک دن کے وقت پیاس اور معدے کی تکالیف کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے بجائے ہلکی اور متوازن غذا کا انتخاب کرنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سحری کو ترک کرنا یا بہت کم مقدار میں کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مناسب اور متوازن سحری روزہ داروں کو پورا دن توانائی فراہم کرتی ہے اور رمضان میں صحت مند رہنے میں مدد دیتی ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
UrduLead UrduLead