منگل , مارچ 3 2026

گلبرگ ریزیڈینشیا: پلاٹ فراڈ کیس درج

مقدمے میں بہادر خان، ذیشان کاتب اور آکاش جاوید کو نامزد

گلبرگ ریزیڈینشیا میں کمرشل پلاٹوں کی فروخت کے نام پر 18 کروڑ روپے مبینہ فراڈ پر تین افراد کے خلاف تھانہ کورل میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اسلام آباد کے تھانہ کورل میں ایک بڑے مالیاتی فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں کمرشل پلاٹوں کی خرید و فروخت کے نام پر 18 کروڑ روپے ہتھیانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے مدعی کی درخواست پر تین نامزد ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کر دی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق پنجگور اور اسلام آباد کے رہائشی اعزاز احمد عباسی نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ سے دس برس سے گلبرگ اسلام آباد میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے خود کو گلبرگ ریزیڈینشیا اسلام آباد میں پانچ کمرشل پلاٹس کا مالک ظاہر کیا۔

مدعی کے بیان کے مطابق پلاٹس نمبر 107، 110 اور 111 سمیت دیگر کمرشل پلاٹس، جن کا سائز 50×50 بتایا گیا، فروخت کیے گئے۔ ان پلاٹس کے عوض مجموعی طور پر تقریباً 18 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ ادائیگیاں مرحلہ وار کی گئیں اور ملزمان نے قانونی دستاویزات فراہم کرنے کا یقین دلایا تھا۔

مقدمے میں بہادر خان، ذیشان کاتب اور آکاش جاوید کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ مذکورہ پلاٹس قانونی طور پر نہ تو منتقل کیے گئے اور نہ ہی سوسائٹی کے ریکارڈ میں ادائیگی ظاہر کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق 3 جنوری 2026 کو گلبرگ ریزیڈینشیا کی جانب سے ایک تحریری خط موصول ہوا۔ خط میں واضح کیا گیا کہ مذکورہ پلاٹس کی مد میں کوئی رقم سوسائٹی کو جمع نہیں کرائی گئی۔ مزید بتایا گیا کہ پلاٹس کی ملکیت بھی قانونی طور پر منتقل نہیں ہوئی۔

مدعی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے جعلی دستاویزات تیار کیں اور انہیں اصل ظاہر کیا۔ جب رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو ملزمان نے انکار کر دیا۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

پولیس نے مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 420، 468، 471 اور 34 کے تحت درج کیا ہے۔ دفعہ 420 دھوکہ دہی، 468 جعلسازی اور 471 جعلی دستاویز کو اصلی کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 34 مشترکہ نیت کو ظاہر کرتی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں گزشتہ برسوں کے دوران ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں فراڈ کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غیر تصدیق شدہ لین دین اور کاغذات کی مکمل جانچ نہ کرنا سرمایہ کاروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہری جائیداد کی خرید و فروخت سے قبل متعلقہ سوسائٹی اور لینڈ ریکارڈ سے تصدیق ضرور کریں۔

تھانہ کورل پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ کیس کی پیش رفت آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آئی ایم ایف مذاکرات، گورننس اصلاحات پر زور

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 11 مارچ تک جاری رہنے والے مذاکرات میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے