
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے آٹو سیکٹر پر جامع رپورٹ جاری کر دی، جس میں طویل المدتی پالیسی روڈ میپ، فنانسنگ اصلاحات اور ریگولیٹری بگاڑ کے خاتمے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان کی آٹوموبائل صنعت پر ایک تفصیلی مطالعہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ بعنوان روڈ ٹو فئر کمپٹیشن – پاکستان کی آٹوموبائل صنعت کا مطالعہ میں شعبے کو درپیش ساختی اور ضابطہ جاتی چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیشن نے مسابقت اور کارکردگی کے فروغ کے لیے وسیع اصلاحات تجویز کی ہیں۔
کمیشن کے مطابق آٹو موبائل صنعت ملکی معیشت کا اہم ستون ہے۔ یہ شعبہ مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 2.8 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ صنعت براہ راست 2 لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت کے نمایاں حصے کے طور پر یہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی ویلیو ایڈیشن میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پے در پے پالیسی اقدامات کے باوجود مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ مختلف انجن کیٹیگریز میں بدستور مرتکز ہے۔ کمیشن نے ہائی اینٹری بیرئرز، بھاری سرمایہ کاری کی ضروریات اور پیچیدہ ضابطہ جاتی تقاضوں کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا ہے۔ ماضی کی تحفظ پسند پالیسیوں نے مقامی مینوفیکچرنگ کے قیام میں مدد دی، مگر طویل المدتی مسابقتی نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
مطالعے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ریگولیٹری فریم ورک میں انتشار پایا جاتا ہے۔ ادارہ جاتی اختیارات کے باہمی تداخل اور پالیسی عدم تسلسل نے سرمایہ کاری متاثر کی۔ سابقہ آٹو پالیسیوں کا مقصد لوکلائزیشن اور برآمدات کا فروغ تھا، تاہم ساختی جمود اور کمزور نفاذ کے باعث اہداف مکمل نہ ہو سکے۔
خریداری کی استطاعت بڑھانے کے لیے کمیشن نے آٹو فنانسنگ تک رسائی میں توسیع کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں فنانسنگ کی سخت شرائط کا ازسرنو جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے۔ مالیاتی نگران اداروں کے ساتھ مل کر پہلی مرتبہ گاڑی خریدنے والوں کے لیے ہدفی اور رعایتی اسکیموں کی تجویز بھی شامل ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی اس شعبے کی بڑی رکاوٹ ہے۔ مقامی پیداواری صلاحیت محدود ہے اور بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ اب بھی فوسل فیول پر مبنی ہے۔ کمیشن نے پالیسی تسلسل اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں وہیکل اسکریپج اور مرحلہ وار اخراج پالیسی کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ کمیشن نے منظم ڈسپوزل اسکیم متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔ اس اقدام سے ماحولیاتی تحفظ اور سڑکوں کی حفاظت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ پرانی اور زیادہ اخراج کرنے والی گاڑیوں کے خاتمے سے نئی گاڑیوں کی طلب بھی بڑھ سکتی ہے۔
سی سی پی نے مقامی وینڈر ڈیولپمنٹ کے فروغ پر بھی زور دیا ہے۔ شفاف اور غیر امتیازی لوکلائزیشن پالیسیوں کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق صنعتی روابط مضبوط بنا کر پاکستان کی آٹو صنعت کو عالمی سپلائی چینز سے جوڑا جا سکتا ہے۔
مسابقت کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کی غرض سے مرحلہ وار بگاڑ پیدا کرنے والے تحفظات کے خاتمے کی سفارش کی گئی ہے۔ ضابطہ جاتی عدم توازن دور کرنے اور مسابقت دوست پالیسیوں کے اختیار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ایک مسابقتی آٹوموبائل صنعت صارفین کے لیے کم قیمتیں، بہتر معیار اور زیادہ انتخاب فراہم کر سکتی ہے۔
کمیشن نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مطالعہ پالیسی سازوں اور صنعتی شراکت داروں کے لیے رہنمائی ثابت ہو گا۔ رپورٹ کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے تاکہ تمام متعلقہ فریق اپنی آرا سے آگاہ کر سکیں۔
UrduLead UrduLead