منگل , مارچ 3 2026

ٹی 20 ورلڈ کپ ناکامی: کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد

آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں ناقص کارکردگی پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کھلاڑیوں پر فی کس 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا اور مالی مراعات کو کارکردگی سے مشروط کرنے کا اعلان کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سخت اقدام اٹھایا ہے۔ بورڈ نے قومی اسکواڈ کے ہر کھلاڑی پر 50،50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ میگا ایونٹ سے جلد اخراج اور غیر تسلی بخش نتائج کے بعد کیا گیا۔

پی سی بی حکام نے کھلاڑیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ آئندہ مالی مراعات کارکردگی سے مشروط ہوں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سنٹرل کنٹریکٹ میں بھی سختی متوقع ہے۔ بورڈ نے ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ شروع کر دیا ہے۔

ورلڈ کپ میں پاکستان کی مہم غیر یقینی کا شکار رہی۔ ابتدائی میچ میں نیدرلینڈز کے خلاف ٹیم شکست سے بال بال بچی۔ امریکا کو شکست دینے کے باوجود ٹیم اعتماد بحال نہ کر سکی۔ سری لنکن کنڈیشنز اور معیاری اسپن اٹیک کے باوجود بھارت کے خلاف کارکردگی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔

گروپ مرحلے میں نمیبیا کو ہرا کر سپر 8 مرحلے میں رسائی ملی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہو گیا۔ انگلینڈ کے ہاتھوں شکست نے سیمی فائنل کی راہ مشکل بنا دی۔ بعد ازاں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ہرایا مگر سری لنکا کے خلاف پاکستان کی سست فتح رن ریٹ بہتر نہ کر سکی۔ یوں نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی اور گرین شرٹس ایونٹ سے باہر ہو گئے۔

بورڈ حکام کے مطابق ٹیم کی ازسرنو تشکیل پر بھی غور جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعظم سمیت چند سینئر کھلاڑیوں کو ٹی 20 فارمیٹ سے وقتی طور پر باہر رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا امکان ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی حالیہ پالیسی مالی نظم و ضبط پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ اس وقت قومی کرکٹرز کی سالانہ آمدنی کروڑوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اے کیٹیگری کھلاڑی کو ماہانہ 45 لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی سی سی ریونیو شیئر سے تقریباً 20 لاکھ 70 ہزار روپے ملتے ہیں۔ بی کیٹیگری کے کھلاڑی کو 30 لاکھ روپے ماہانہ اور 15 لاکھ 52 ہزار 500 روپے آئی سی سی شیئر دیا جاتا ہے۔

کرکٹ تجزیہ کاروں کے مطابق بلند معاوضوں کے مقابلے میں حالیہ نتائج مایوس کن رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے ٹی 20 کرکٹ میں غیر مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایشیا کپ سمیت اہم ایونٹس میں بھی ٹیم دباؤ میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔

شائقین کرکٹ نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سابق کھلاڑیوں نے بھی ڈسپلن اور پیشہ ورانہ طرز عمل بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹی 20 کرکٹ میں فٹنس، فیلڈنگ اور اسٹرائیک ریٹ کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے حالیہ فیصلے سے واضح ہے کہ کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ آئندہ سیریز اور ٹورنامنٹس میں ٹیم کو اپنی ساکھ بحال کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کی ناکامی نے نہ صرف مالی جرمانے مسلط کیے بلکہ قومی ٹیم کے مستقبل پر بھی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آئی ایم ایف مذاکرات، گورننس اصلاحات پر زور

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 11 مارچ تک جاری رہنے والے مذاکرات میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے