منگل , مارچ 3 2026

آئی ایم ایف مذاکرات، گورننس اصلاحات پر زور

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 11 مارچ تک جاری رہنے والے مذاکرات میں گورننس، کرپشن اور مالیاتی اصلاحات کلیدی ایجنڈا بن گئے ہیں۔

پاکستانی حکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات 11 مارچ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بات چیت میں گورننس اصلاحات، کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ اور نیشنل فِسکل پیکٹ کے نفاذ پر تفصیلی غور ہو گا۔

حکام کے مطابق آئی ایم ایف وفد کی آمد کے بعد تکنیکی سطح کے اجلاس شروع ہو چکے ہیں۔ ان اجلاسوں میں اکنامک گورننس ریفارم پلان کے مجموعی نفاذ کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ منصوبہ گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا، جس میں ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ناقص حکمرانی، ٹیکس چوری اور بدعنوانی کی بنیادی وجوہات زیر بحث آئیں گی۔ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے تدارک کے اقدامات بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت تفتیشی اختیارات دینے کی منظوری کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔

نیشنل فِسکل پیکٹ کے تحت صوبائی نوعیت کے اخراجات صوبوں کو منتقل کرنے پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف صوبائی ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں اور ٹیکس ریٹرنز پر تازہ ترین معلومات طلب کرے گا۔ کرپشن رسک اسیسمنٹ رپورٹ پر پیش رفت کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔

مذاکرات میں اینٹی منی لانڈرنگ اور سی ایف ٹی اتھارٹی کے تحت ایک ٹاسک فورس کے قیام پر غور متوقع ہے۔ سرکاری اداروں کو بغیر بولی ٹھیکے دینے کی اجازت ختم کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اور زیر التوا اپیلوں کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے پالیسی اقدامات پر بھی گفتگو ہو گی۔

ذرائع کے مطابق رواں سال مئی تک ٹیکس شیڈول کم کرنے اور غیر ضروری نظام ختم کرنے کی تجویز بھی مذاکرات کا حصہ ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اخراجات صوبوں کے ساتھ شیئر کرنے کی تجویز پر بھی بات ہو گی۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرعی آمدن پر نئے انکم ٹیکس نظام کے نفاذ میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی جا سکتی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات پاکستان کی آئندہ مالیاتی حکمت عملی کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔ حکومت کو مالی نظم و ضبط، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے واضح پیش رفت دکھانا ہو گی۔ مذاکرات کے نتائج آئندہ قسط کے اجرا اور مجموعی معاشی استحکام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ٹی 20 ورلڈ کپ ناکامی: کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد

آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں ناقص کارکردگی پر پاکستان کرکٹ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے