
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے اور اس نے کراچی میں State Bank of Pakistan کا دورہ کرکے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔
یہ دورہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی (EFF) پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کے سلسلے میں ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں چوتھی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کر لیے ہیں اور نئے مالی سال کے بجٹ سے قبل اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔ کامیاب مذاکرات کی صورت میں تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہونے کا امکان ہے۔
11 مارچ تک مذاکرات
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ اس دوران جولائی تا جنوری معاشی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ ہوگی، جس میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے ماہرین آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دیں گے۔
اصلاحات اور مالیاتی اہداف پر بات چیت
مشن کو ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں پیش رفت، مانیٹری پالیسی، اینٹی منی لانڈرنگ (AML) اور اینٹی ٹیرر فنانسنگ (CFT) اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق زرِمبادلہ ذخائر کی صورتحال خصوصی توجہ کا مرکز ہوگی۔ آئی ایم ایف نے 30 جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے خالص ذخائر 23 ارب 30 کروڑ ڈالر تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
مالیاتی کارکردگی کا جائزہ
ٹیکنیکل سیشنز میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس عرصے میں پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا، جو ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اسی طرح رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے منفی 0.6 فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتری کی علامت ہے۔
آر ایس ایف پروگرام پر بھی مذاکرات
ذرائع کے مطابق ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی کے تیسرے جائزے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی (RSF) پروگرام کے تحت دوسرے اقتصادی جائزے پر بھی بات چیت ہوگی۔ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر آر ایس ایف پروگرام کے تحت موصول ہونے کا امکان ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کی صورت میں نہ صرف بیرونی مالی معاونت ملے گی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
UrduLead UrduLead