جمعرات , فروری 26 2026

سپر ایٹ میں شکست کے بعد قومی ٹیم پر تنقید

آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026ء کے سپر ایٹ مرحلے میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ اہم میچ سری لنکا کے شہر کینڈی میں واقع Pallekele International Cricket Stadium میں کھیلا گیا جہاں انگلینڈ کے کپتان Harry Brook کی شاندار سنچری نے میچ کا رخ بدل دیا اور ٹیم کو سیمی فائنل کے قریب پہنچا دیا۔

انگلینڈ نے 165 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 8 وکٹوں کے نقصان پر 5 گیندیں قبل مطلوبہ اسکور حاصل کرلیا اور گروپ 2 میں 4 پوائنٹس کے ساتھ اپنی سرِ فہرست پوزیشن مستحکم کرلی۔

بروک کی سنچری، پاکستان کو 2 وکٹوں سے شکست

میچ کے بعد کرکٹ حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ سابق کپتان Mohammad Hafeez نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ناکامی کی وجہ صرف ایک میچ نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ میں حکمتِ عملی کی غلطیاں رہی ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر Mohammad Yousuf نے ہیری بروک کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فرنٹ سے لیڈ کیا، جبکہ پاکستان کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان رہا۔

سابق کپتان Shoaib Malik نے جدید کرکٹ کھیلنے کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب تک بنیادی مہارت، گیم اویئرنیس اور نظم و ضبط بہتر نہیں ہوگا، اس وقت تک محض جدید انداز اپنانا سودمند نہیں۔ انہوں نے اسے نرسری پڑھے بغیر دسویں جماعت کا امتحان دینے سے تشبیہ دی۔

بین الاقوامی ردِعمل

بھارت کے سابق فاسٹ بولر Munaf Patel نے بروک کی اننگز کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مکمل بولنگ اٹیک کی کمی اور کمزور فیلڈنگ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

سابق انگلش کپتان Michael Vaughan نے ٹورنامنٹ کی کنڈیشنز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی برصغیر کی ٹیم کے لیے سیمی فائنل تک رسائی آسان نہیں ہوگی۔

حکمتِ عملی پر سوالات

پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر Ahmed Shehzad نے ٹیم مینجمنٹ اور پلیئنگ الیون پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ اپنی بہترین فارم میں نہیں تھا اور پاکستان کے پاس سنہری موقع موجود تھا، لیکن ناقص منصوبہ بندی اور غلط شاٹ سلیکشن کے باعث میچ ہاتھ سے نکل گیا۔

انہوں نے انفرادی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ Babar Azam کی 24 گیندوں پر 25 رنز کی اننگز نے رفتار کو متاثر کیا، جبکہ شاداب خان مڈل اوورز میں مہنگے ثابت ہوئے۔ صائم ایوب توقعات پر پورا نہ اتر سکے اور ابرار احمد کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا۔

سیمی فائنل کی راہ مشکل

اس شکست کے بعد پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں مزید پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ ٹیم کو نہ صرف آئندہ میچز میں بہتر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی بلکہ فیلڈنگ، بولنگ کمبی نیشن اور بیٹنگ اپروچ میں بھی واضح بہتری دکھانا ہوگی۔

سوال یہ ہے کہ کیا قومی ٹیم دباؤ سے نکل کر واپسی کر پائے گی، یا یہ ٹورنامنٹ بھی ماضی کی طرح مایوسیوں کی داستان بن جائے گا؟

About Aftab Ahmed

Check Also

UK کا نیا سفری قانون: ETA کے بغیر سفر ممکن نہیں

برطانیہ نے غیر ملکی مسافروں کے لیے نیا سفری قانون سختی سے نافذ کرنے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے