جمعرات , فروری 26 2026

Hyderabad کی شاہی سحری: ذائقوں کی خوشبو

رمضان المبارک دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے روحانیت، صبر اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ سحر اور افطار وہ بابرکت لمحات ہیں جو روزہ دار کو جسمانی توانائی اور قلبی سکون فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ مختلف ممالک میں سحر و افطار کے انداز جداگانہ ہیں، مگر ان سب میں ایک مشترکہ روحانی جذبہ نمایاں ہوتا ہے۔

ایشیائی ممالک میں رمضان کی رونقیں خاص طور پر دیدنی ہوتی ہیں۔ پاکستان، بھارت، ترکی، ایران، بنگلہ دیش اور مشرقِ وسطیٰ میں سحری کے دسترخوان مقامی ثقافت اور روایتی ذائقوں کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔ انہی رنگا رنگ روایات کے درمیان بھارت کا تاریخی شہر حیدرآباد اپنی شاہی سحری اور منفرد دکنی کھانوں کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔

رمضان کی راتوں میں حیدرآباد کی گلیاں خوشبوؤں سے مہک اٹھتی ہیں، ہوٹلوں اور قدیم بازاروں میں چہل پہل بڑھ جاتی ہے اور دسترخوان ایسے پکوانوں سے سجے ہوتے ہیں جو صدیوں پرانی نوابی تہذیب کی یاد دلاتے ہیں۔

کھچڑی، کھٹا اور قیمہ؛ روایت اور ذائقے کا سنگم

حیدرآباد کی سحری کا سب سے معروف امتزاج کھچڑی، کھٹا اور قیمہ ہے۔ نرم اور ہلکی کھچڑی چاول اور مونگ کی دال سے تیار کی جاتی ہے، جس کے ساتھ املی، مونگ پھلی اور تل سے بنا مخصوص کھٹا سالن پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ مصالحہ دار قیمہ شامل ہو تو ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ یہ ڈش نہ صرف پیٹ بھرنے والی ہے بلکہ روزہ دار کو دیرپا توانائی بھی فراہم کرتی ہے۔

بھیجا فرائی؛ لذیذ اور منفرد انتخاب

نان ویج کے شوقین افراد کے لیے بھیجا فرائی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مکھن اور خوشبودار مصالحوں میں اچھی طرح پکایا گیا بھیجا اپنی نرم ساخت اور منفرد ذائقے کے باعث سحری کا پسندیدہ حصہ ہے۔ اسے عموماً گرم تندوری روٹی یا نان کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

نہاری اور کلچہ؛ شاہی روایت کی علامت

نہاری کو حیدرآباد کی شاہی روایت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ڈش رات بھر ہلکی آنچ پر پکائی جاتی ہے جس سے گوشت بے حد نرم اور لذیذ ہو جاتا ہے۔ گاڑھا شوربہ اور خوشبودار مصالحے اسے سحری کا بہترین انتخاب بناتے ہیں۔ نرم اور گرم کلچوں کے ساتھ اس کا امتزاج نوابی ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔

تلا ہوا گوشت؛ سادہ مگر طاقت بخش

ادرک، لہسن، ہری مرچ اور کڑی پتے کے ساتھ تلے ہوئے مٹن کے ٹکڑے ایک سادہ مگر توانائی بخش ڈش ہیں۔ اسے اکثر کھچڑی یا سادہ چاول کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ پکوان ذائقے اور غذائیت دونوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔

میٹھا اختتام؛ ملائی اور شاہی ٹکڑا

سحری کے اختتام پر ملائی، نان ختائی اور شاہی ٹکڑا جیسے میٹھے پکوان پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ میٹھے نہ صرف ذائقے کو مکمل کرتے ہیں بلکہ روزے کے آغاز سے قبل جسم کو اضافی توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔

رمضان کے دوران حیدرآباد کے خصوصی پکوان نہ صرف مقامی باشندوں بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد کی سحری کو ایشیا کی یادگار اور شاہی سحریوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں ہر نوالہ تاریخ، ثقافت اور محبت کی داستان سناتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

UK کا نیا سفری قانون: ETA کے بغیر سفر ممکن نہیں

برطانیہ نے غیر ملکی مسافروں کے لیے نیا سفری قانون سختی سے نافذ کرنے کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے