بدھ , فروری 25 2026

رمضان کے روزے: سائنسی فوائد نمایاں

رمضان کے روزے جسمانی اور ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں، سائنسی تحقیق کے مطابق یہ میٹابولزم بہتر کرتے اور بیماریوں کے خطرات کم کرتے ہیں۔

رمضان المبارک میں رکھے جانے والے روزے نہ صرف روحانی عبادت ہیں بلکہ جدید سائنسی تحقیق بھی ان کے جسمانی اور ذہنی فوائد کی توثیق کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مخصوص دورانیے تک کھانے سے پرہیز جسم کو بحالی کا موقع دیتا ہے اور مجموعی صحت میں بہتری لاتا ہے۔

طبی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ وقفے وقفے سے کھانے کا نظام، جسے انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ بھی کہا جاتا ہے، جسم میں موجود زہریلے مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق جب جسم کو مسلسل ہاضمے کے عمل سے وقفہ ملتا ہے تو وہ توانائی کو خلیاتی مرمت اور صفائی کے عمل پر صرف کرتا ہے، جس سے سوزش میں کمی اور مدافعتی نظام کی بہتری ممکن ہوتی ہے۔

وزن میں کمی روزے کے نمایاں فوائد میں شامل ہے۔ کھانوں کے درمیان طویل وقفے سے کیلوریز کا قدرتی توازن برقرار رہتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس عمل سے جسم چربی کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے، جس سے میٹابولزم بہتر ہوتا ہے اور موٹاپے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق موٹاپا ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا بڑا سبب ہے، جبکہ متوازن روزہ ان خطرات میں کمی لا سکتا ہے۔

ذہنی صحت پر بھی روزے کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ سائنسی مطالعات سے پتا چلا ہے کہ روزے کے دوران دماغ میں برین ڈرائیوڈ نیوروٹروفک فیکٹر (بی ڈی این ایف) کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت بہتر بناتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق روزہ ذہنی دباؤ کم کرنے اور موڈ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً جب اسے روحانی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جائے۔

انسولین کی حساسیت میں بہتری بھی روزے کا ایک اہم فائدہ ہے۔ اینڈوکرائن ماہرین کے مطابق وقفے سے کھانا خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات کم ہو سکتے ہیں، تاہم ماہرین مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر روزے کے معمول میں تبدیلی نہ کریں۔

دل کی صحت کے حوالے سے بھی تحقیق حوصلہ افزا ہے۔ مطالعات کے مطابق باقاعدہ روزہ رکھنے سے خراب کولیسٹرول ایل ڈی ایل میں کمی اور اچھے کولیسٹرول ایچ ڈی ایل میں اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ بلڈ پریشر میں بہتری اور خون کی گردش میں توازن بھی دیکھا گیا ہے، جو امراض قلب کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

سوزش میں کمی روزے کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ طبی جرائد میں شائع تحقیق کے مطابق محدود کیلوریز اور مخصوص دورانیے کی فاسٹنگ جسم میں انفلامیٹری مارکرز کو کم کر سکتی ہے۔ اس کا تعلق جوڑوں کے درد، امراض قلب اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات میں کمی سے جوڑا جاتا ہے۔

روزے کے دوران آٹو فاجی کا عمل بھی تیز ہو سکتا ہے، جس میں جسم خراب خلیات کو توڑ کر نئے خلیات کی تشکیل کرتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ عمل عمر رسیدگی کے اثرات کو سست کرنے اور خلیاتی سطح پر صحت بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین سماجیات کے مطابق روزہ صبر، برداشت اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ نظم و ضبط روزمرہ زندگی میں مثبت عادات اپنانے اور منفی رویوں سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

رمضان کے روزے روحانی بالیدگی کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی تندرستی کا بھی ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں متوازن غذا، مناسب نیند اور طبی مشورے کے ساتھ اختیار کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد روزے کو صحت مند طرز زندگی کے ایک مؤثر حصے کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، تاہم انفرادی طبی حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

او جی ڈی سی منافع 11% کم، مارجن دباؤ برقرار

او جی ڈی سی نے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں کمزور قیمتوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے