
او جی ڈی سی نے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں کمزور قیمتوں اور بڑھتی لاگت کے باعث بعد از ٹیکس منافع میں 11.4% کمی رپورٹ کی، جبکہ ایکسپلوریشن اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا۔
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایکس: او جی ڈی سی) نے مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں معتدل مالی نتائج جاری کیے، جو کم ہائیڈروکاربن آمدنی، مارجن دباؤ اور بڑھتی لاگت کے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کمپنی کی نیٹ سیلز سالانہ بنیاد پر 6.6% کم ہوئیں، جس کی بنیادی وجہ کم حاصل شدہ قیمتیں اور پیداوار کے حجم میں دباؤ تھا۔
دوسری سہ ماہی میں بھی کمزوری برقرار رہی جہاں سیلز 3.8% سالانہ کم ہوئیں۔ یہ رجحان عارضی نہیں بلکہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مقامی پیداوار کے چیلنجز سے جڑا وسیع تر دباؤ ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں حالیہ مہینوں میں دباؤ کا شکار رہیں، جس کا براہ راست اثر اپ اسٹریم کمپنیوں کی آمدنی پر پڑا۔
لاگت کے محاذ پر دباؤ مزید نمایاں ہوا۔ اگرچہ رائلٹی اخراجات 9% کم ہوئے، جو کم سیلز کے مطابق تھا، تاہم آپریٹنگ اخراجات 24% بڑھ گئے۔ ٹرانسپورٹیشن چارجز نسبتاً مستحکم رہے، مگر مجموعی منافع 18.8% کم ہو گیا۔ مجموعی مارجنز میں واضح کمی قیمتوں میں نرمی اور لاگت میں اضافے دونوں کا نتیجہ رہی۔
غیر آپریٹنگ آمدنی میں بھی نمایاں کمی آئی۔ فائنانس اور دیگر آمدنی 42% کم ہوئی، جو شرح سود میں معمول پر آنے اور نقد بیلنس پر کم منافع کی عکاسی کرتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں بتدریج کمی نے کارپوریٹ ڈپازٹس پر ریٹرن کم کیے، جس کا اثر بڑی کیش پوزیشن رکھنے والی کمپنیوں پر پڑا۔
ایکسپلوریشن اور پروسپیکٹنگ اخراجات 50.9% بڑھ گئے، جو ریزرو بیس برقرار رکھنے اور فرنٹیئر بلاکس میں سرگرمی بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اپ اسٹریم سیکٹر میں قدرتی فیلڈ ڈیکلائن ایک مستقل چیلنج ہے، جہاں موجودہ فیلڈز کی پیداوار وقت کے ساتھ کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی دریافتوں کے بغیر طویل مدتی پیداوار میں استحکام ممکن نہیں۔
جنرل اور ایڈمنسٹریشن اخراجات تقریباً 20% بڑھے، جس سے مجموعی لاگت کا دباؤ برقرار رہا۔ تاہم فائنانس لاگت میں 17.6% کمی نے کچھ حد تک ریلیف فراہم کیا۔ قبل از ٹیکس منافع 28.9% کم ہوا، جبکہ کم مؤثر ٹیکس ریٹ کے باعث بعد از ٹیکس منافع میں کمی نسبتاً محدود ہو کر 11.4% رہی۔
او جی ڈی سی پاکستان کے اپ اسٹریم تیل و گیس شعبے کی سب سے بڑی کمپنی ہے اور قومی پیداوار میں نمایاں حصہ رکھتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی یومیہ خام تیل پیداوار تقریباً 70 ہزار بیرل کے قریب رہی ہے، جبکہ گیس پیداوار میں بھی حالیہ برسوں میں تدریجی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس تناظر میں او جی ڈی سی کی حکمت عملی قلیل مدتی کیش فلو اور طویل مدتی ریزرو ری پلیسمنٹ کے درمیان توازن قائم رکھنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
توانائی شعبہ اس وقت درآمدی انحصار، گردشی قرضے اور قیمتوں کے تعین کے ریگولیٹری فریم ورک جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ او جی ڈی سی کی آمدنی بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں اور مقامی گیس پرائسنگ میکانزم سے جڑی ہوئی ہے، جس میں حکومتی پالیسی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر بڑی نئی دریافت یا بامعنی پیداوار میں اضافہ نہ ہوا تو کمپنی کی کارکردگی عالمی قیمتوں کے رجحان سے متاثر ہوتی رہے گی۔
مالی سال 26 کی پہلی ششماہی کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ او جی ڈی سی دباؤ کے باوجود ایکسپلوریشن سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم مارجن کی بحالی کے لیے قیمتوں میں استحکام اور پیداوار میں بہتری ناگزیر ہوگی۔ آنے والے مہینوں میں عالمی توانائی منڈی اور ملکی پالیسی فیصلے او جی ڈی سی کی سمت کا تعین کریں گے۔
UrduLead UrduLead