
وزارتِ خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کے ٹاپ 15 سرکاری اداروں (اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز یا SOEs) کا مجموعی منافع گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد یا 30 ارب روپے کم ہو کر صرف 622 ارب روپے رہ گیا۔
یہ انکشاف ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے جسے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے (CCoSOEs) نے منظور کر لیا ہے اور اب وفاقی کابینہ سے حتمی توثیق کا انتظار ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک سرکاری کمپنی ایسی رہی جس کا سالانہ منافع 100 ارب روپے سے تجاوز کر سکا۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) نے 19 فیصد کمی کے باوجود 170 ارب روپے کا منافع کمایا اور ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔
دوسرے نمبر پر پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) رہی جس کا منافع 90 ارب روپے رہا۔ نیشنل بینک آف پاکستان نے 57 ارب روپے منافع کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (WAPDA) نے 52 ارب روپے منافع کمایا۔
رپورٹ میں صرف تین کمپنیوں کا منافع 50 ارب روپے سے زیادہ بتایا گیا ہے۔یہ رپورٹ سرکاری اداروں کے گورننس ڈھانچے میں سنگین خامیوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (CMU) کے مطابق بورڈز زیادہ تر نامکمل اور رسمی نوعیت کے ہیں۔
بورڈ کی کارکردگی کا کوئی باقاعدہ جائزہ نہیں لیا جاتا اور نگرانی کے معیار کو جانچنے کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔
بورڈز میں 50 فیصد آزاد ڈائریکٹرز کی نمائندگی کے باوجود آڈٹ اور رسک کمیٹیوں کی آزادی کمزور ہے اور انتظامیہ کو مؤثر چیلنج نہیں کیا جاتا۔ صرف 36 فیصد سرکاری اداروں کے آڈٹس مکمل ہو سکے، جس کی وجہ سے مالی فیصلے اندازوں پر مبنی رہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک وقت میں فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری افسران جو بورڈز کے رکن ہیں، وہ ایک لاکھ روپے سے زائد بورڈ فیس نہیں رکھ سکیں گے اور اضافی رقم حکومت کو جمع کرانی ہوگی، مگر بیوروکریسی کے دباؤ پر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
دوسری جانب رپورٹ میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مجموعی نقصانات کو 6.5 کھرب روپے تک پہنچنے کا ذکر ہے، جو مجموعی طور پر SOEs سیکٹر کے لیے سنگین مالی دباؤ ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار سرکاری اداروں میں اصلاحات اور نجکاری کی ضرورت کو مزید واضح کرتے ہیں تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ وزارتِ خزانہ نے ابھی تک رپورٹ کو باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا ہے۔
UrduLead UrduLead