
برطانیہ نے غیر ملکی مسافروں کے لیے نیا سفری قانون سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب 85 ممالک کے شہریوں کو برطانیہ روانگی سے قبل الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اجازت نامے کے بغیر کسی مسافر کو برطانیہ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق یہ نظام آج سے مکمل طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت وہ مسافر بھی جو پہلے ویزا کے بغیر برطانیہ کا سفر کر سکتے تھے، اب روانگی سے پہلے آن لائن درخواست دے کر ای ٹی اے حاصل کریں گے۔
ای ٹی اے کیا ہے اور فیس کتنی ہے؟
ای ٹی اے ایک آن لائن سفری اجازت نامہ ہے جو مختصر مدت کے قیام کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔
اس اجازت نامے کی فیس 16 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے، جو تقریباً 21 امریکی ڈالر اور پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 6 ہزار روپے بنتی ہے۔
حکام کے مطابق درخواست گزاروں کو سفر سے قبل آن لائن فارم مکمل کرنا ہوگا، جس کے بعد منظوری دی جائے گی۔ بغیر منظوری کے ایئر لائنز مسافروں کو جہاز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دیں گی۔
نفاذ کی تاریخ اور پس منظر
یہ اسکیم پہلی بار 2023 میں متعارف کرائی گئی تھی، جبکہ اپریل 2024 میں اس کا اطلاق یورپی ممالک کے مسافروں تک بھی بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم ابتدا میں اس پر مکمل سختی سے عمل درآمد نہیں کیا جا رہا تھا۔
اب 25 فروری سے اس قانون پر مکمل پابندی کے ساتھ سختی سے عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
کن افراد کو استثنیٰ حاصل ہوگا؟
وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ:
- برطانوی اور آئرش شہری اس شرط سے مستثنیٰ ہوں گے۔
- وہ افراد جنہیں پہلے سے برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل ہے، انہیں بھی ای ٹی اے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
- جن مسافروں کے پاس درست ای ویزا یا دیگر قانونی سفری دستاویزات موجود ہوں گی، وہ مقررہ ضوابط کے مطابق سفر کر سکیں گے۔
حکومت کا مؤقف
برطانیہ کے وزیر برائے امیگریشن Michael Tapp نے کہا ہے کہ اس نئے نظام کا مقصد سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور ایک جدید، مؤثر اور محفوظ سفری نظام فراہم کرنا ہے، جو عوام اور مسافروں دونوں کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔
یورپی یونین کا نیا نظام
دوسری جانب European Union نے بھی گزشتہ سال اکتوبر سے برطانوی شہریوں کے لیے نیا بارڈر سیکیورٹی نظام نافذ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت پاسپورٹ پر مہر لگانے کے بجائے مسافروں کا ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ کیا جاتا ہے۔
خدشات اور ممکنہ مسائل
اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام سفری عمل کو زیادہ محفوظ اور منظم بنائے گا، تاہم بعض مسافروں نے شکایت کی ہے کہ نئے ضوابط کے باعث کچھ ہوائی اڈوں پر تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ماہرین کا خدشہ ہے کہ ایسٹر کے موقع پر جب سفری رش میں اضافہ ہوگا تو مکمل نفاذ کے باعث بڑے پیمانے پر سفری خلل بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead