جمعہ , جنوری 30 2026

خلیجی ممالک معاہدوں میں بھی ضروری تبدیلیاں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو بتایا گیا کہ فوجی فاؤنڈیشن عارف حبیب کنسورشیم کا حصہ نہیں، جو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) حاصل کرے گا۔ حکومت 25 فیصد شیئرز (مالیت 45 ارب روپے) اپنے پاس رکھے گی۔ صدارت سینیٹر افنان اللہ خان نے کی، جہاں خلیجی ممالک کے ساتھ معاہدوں میں ضروری تبدیلیوں کا بھی ذکر ہوا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر افنان اللہ خان نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری یا سہولیات میں بہتری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ایئرپورٹ پر صفائی کی صورتحال ابتر ہے۔ سینیٹر پلوشہ خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت خود کوئی کام نہیں کر سکتی اور سب کچھ نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

سیکریٹری کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں ایئرپورٹس چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ میں معاونت کا خواہاں ہے۔ بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ سے چھوٹے ایئرپورٹس کی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں گی۔

سیکریٹری نجکاری کے مطابق، کنسورشیم—جسے امریکی ایوی ایشن کنسلٹنسی کی خدمات حاصل ہیں—125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ تین ماہ میں فنانشل کلوز، ابتدائی 10 ارب روپے ادائیگی، اور ایئر لائن کی ویلیو 9 ارب سے 180 ارب روپے تک پہنچے گی۔

سیکریٹری نجکاری کمیشن نے واضح کیا ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن قومی ایئرلائن خریدنے والے عارف حبیب کنسورشیم کا حصہ نہیں ہے، جبکہ حکومت ایئر لائن کے 25 فیصد شیئرز اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔

یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتائی گئی۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر افنان اللہ خان نے کی۔ سیکریٹری نجکاری کے مطابق حکومت کے پاس موجود 25 فیصد شیئرز کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ عارف حبیب کنسورشیم کو کاروبار چلانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور اس نے ایک امریکی ایوی ایشن کنسلٹنسی فرم کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ قومی ایئرلائن کا فنانشل کلوز آئندہ تین ماہ میں متوقع ہے جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ موجود معاہدوں میں بھی ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔

سیکریٹری نجکاری کے مطابق کنسورشیم پی آئی اے میں مجموعی طور پر 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا اور تین ماہ کے اندر 10 ارب روپے حکومت کو ادا کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی ایئرلائن کی مالیت 9 ارب روپے ہے، تاہم فنانشل کلوز کے بعد اس کی ویلیو 180 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ایئر لائن کا بزنس پلان ایک ماہ میں پیش کیا جائے گا جبکہ آئندہ چار برسوں میں طیاروں کی تعداد بڑھا کر 40 کر دی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر قومی ایئرلائن کو بند کیا جاتا تو اس کی لاگت 200 سے 300 ارب روپے تک جاتی، کیونکہ تمام واجبات حکومت کو ادا کرنا پڑتے، جن میں پنشنرز کو 34 ارب روپے کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔

چیئرمین کمیٹی کے سوال پر سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ قومی ایئرلائن کی نجکاری کے بعد ایئرپورٹس کی نجکاری میں بھی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر داخلے میں طویل وقت لگتا ہے، جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

سینیٹر بلال احمد نے تجویز دی کہ حکومت ایک ساتھ تمام ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ پر غور کرے، جس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی بہتر رائے دے سکتی ہے۔ سینیٹر عمر فاروق نے قومی ایئرلائن کی نجکاری کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھایا۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قومی ایئرلائن کو سالانہ 100 ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا، جبکہ ملک کا مجموعی بجٹ 17 ہزار ارب روپے ہے، اس تناظر میں نقصان کم کرنا بڑی کامیابی ہوگی۔

سیکریٹری نجکاری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کسی بھی بولی دہندہ کو رعایت نہیں دی گئی۔ عارف حبیب گروپ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست زیر التوا ہے، تاہم یہ کسی کو نااہل قرار دینے کی بنیاد نہیں۔ بڈرز کی فنانشل مینجمنٹ یونٹ سے اسکرونٹی کرائی گئی ہے جبکہ ورلڈ بینک، ایف بی آر اور دیگر اداروں سے بھی رپورٹس حاصل کی گئی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

سلطان اورحان کا تیمور تاش کو دوٹوک پیغام

ترک تاریخی ڈرامہ سیریز کورولوش اورحان کے تازہ ایپی سوڈز میں سلطان اورحان غازی ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے