
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں قومی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے اہم پیش رفت کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اس معاملے کو سیاسی سطح پر لے جانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا جو بھی فیصلہ ہو گا، پی سی بی اس پر مکمل عمل کرے گا۔
اس سے قبل چیئرمین محسن نقوی نے گرین شرٹس کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور بورڈ کے اصولی موقف سے آگاہ کیا۔ کھلاڑیوں نے چیئرمین کے اس موقف کی تعریف کی اور مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے کھلاڑیوں کو بتایا کہ پی سی بی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کا بھارت میں ورلڈ کپ نہ کھیلنے کا فیصلہ اصولوں پر مبنی ہے۔ “ہم نے کرکٹ کے سنہری اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کی حمایت کی ہے۔ آئی سی سی کو دہرا معیار نہیں اپنانا چاہیے، جہاں ایک ملک کے لیے رعایت دی جائے اور دوسرے کے ساتھ ناانصافی کی جائے۔”
چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں۔ “ہمارے کھلاڑی باصلاحیت ہیں اور ہر سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن فیصلہ حکومت کرے گی۔ ہم اصولوں پر چلتے ہیں اور سب کو بھی یہی اصول اپنانے چاہییں۔”
دوسری جانب پی سی بی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت یا عدم شرکت کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم سے مشاورت کے بعد ہو گا، تاہم اس سے قبل وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے رائے لی جائے گی۔ یہ مشاورت بنگلہ دیش کو آئی سی سی کی جانب سے ورلڈ کپ سے خارج کرنے اور سکاٹ لینڈ کو متبادل کے طور پر شامل کرنے کے بعد کی گئی ہے۔
محسن نقوی نے پہلے بھی آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ بنگلہ دیش ایک فل ممبر ہے اور اس کے ساتھ بھی وہی رعایت ہونی چاہیے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائبرڈ ماڈل کی صورت میں کی گئی۔
یہ صورتحال پاکستانی کرکٹ کے لیے نازک ہے، کیونکہ اگر پاکستان نے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا تو آئی سی سی کی جانب سے ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی سی بی کا زور اصولوں اور یکساں سلوک پر ہے۔
UrduLead UrduLead