
لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے اغوا ہونے والے معروف تعلیمی ادارے “کپس” کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عابد وزیر خان کو اغوا کاروں نے رہا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے عابد وزیر کو اس شرط پر چھوڑا کہ وہ واقعے کی اطلاع لاہور پولیس کے سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (سی سی سی) کو نہیں دیں گے۔
رہائی کے بعد عابد وزیر نے بتایا کہ ملزمان نے ان سے تاوان مانگنے کے بجائے الٹا انہیں پیسے دینے کی پیشکش کی اور کہا کہ “تاوان نہ دیں بلکہ ہم سے پیسے لے جائیں”۔
اس کے بعد انہیں بس میں بٹھا کر کرایہ بھی ادا کیا اور چھوڑ دیا۔معلوم ہوا ہے کہ اغوا کاروں نے ابتدائی طور پر مغوی کے ورثا سے 16 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سی سی سی کی ٹیموں کے قریب پہنچنے اور دباؤ بڑھنے کے باعث ملزمان نے عابد وزیر کو جلد رہا کر دیا۔
سی سی سی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اغوا کاروں کے قریب پہنچ گئے ہیں اور ان کی جلد گرفتاری متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات کے مطابق عابد وزیر خان اپنے دفتر سے گاڑی پر روانہ ہوئے تھے کہ چند لمحوں بعد تعلیمی ادارے کی جنرل مینیجر کو فون آئی۔ کال کے دوران گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارنے کی آواز سنائی دی اور ایک شخص نے کہا کہ “تم نے میری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کیا ہے”۔ اس کے فوراً بعد کال منقطع ہو گئی اور عابد وزیر سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
مغوی کے بھائی طاہر وزیر خان کی مدعیت میں جوہر ٹاؤن تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی تھی جس میں اغوا کی دفعات شامل تھیں۔
پولیس نے مختلف ٹیمیں تشکیل دے کر تفتیش شروع کی تھی۔عابد وزیر خان کی رہائی کے بعد اب تفتیش کا رخ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کی طرف ہے۔
UrduLead UrduLead