منگل , جنوری 27 2026

سردیوں کی آمد کے ساتھ پکوڑوں کی مانگ میں اضافہ

سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں پکوڑوں کی فروخت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہروں اور قصبوں کی گلیوں میں قائم ٹھیلوں پر شہریوں کا رش بڑھ گیا ہے، جہاں شام ڈھلتے ہی گرم پکوڑوں کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں پکوڑے سردیوں کی ایک مقبول ترین غذائی علامت بن چکے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق جیسے ہی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے، پکوڑوں کی طلب دوگنی ہو جاتی ہے، خاص طور پر شام کے اوقات میں چائے کے ساتھ ان کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔

لاہور کے مشہور انارکلی بازار میں پکوڑے فروخت کرنے والے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ سردیوں میں ان کی روزانہ کی فروخت گرمیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق لوگ آلو، پیاز، پالک اور بیسن کے پکوڑوں کو خاص طور پر پسند کرتے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر مچھلی اور مرچوں کے پکوڑے بھی مقبول ہیں۔

ماہرینِ خوراک کے مطابق پکوڑے بیسن سے تیار کیے جاتے ہیں جو توانائی فراہم کرتا ہے اور سرد موسم میں جسم کو وقتی طور پر حرارت بخشتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تلی ہوئی اشیاء کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔

گھریلو سطح پر بھی پکوڑوں کی تیاری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کئی گھروں میں خواتین شام کے وقت پکوڑے تیار کرتی ہیں، جو خاندان کے افراد کے لیے سردیوں کی ایک روایتی اور پسندیدہ ڈش سمجھی جاتی ہے۔ چائے کے ساتھ پکوڑوں کا امتزاج خاص طور پر مہمان نوازی کا حصہ بن چکا ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ پکوڑے نہ صرف ایک غذا ہیں بلکہ پاکستان میں سردیوں کی ثقافتی پہچان بھی رکھتے ہیں۔ بارش یا ٹھنڈی ہوا کے ساتھ پکوڑوں کا ذکر عوامی گفتگو کا حصہ بن جاتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سرد موسم میں پکوڑوں کی تصاویر اور تبصرے عام نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب، بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بیسن، آلو اور پیاز جیسی اشیائے خورونوش کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دکانداروں کے مطابق سردیوں میں ان اشیاء کی کھپت میں نمایاں بہتری آتی ہے، جو چھوٹے تاجروں کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں کی یہ روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے اور بدلتے وقت کے باوجود پکوڑے آج بھی ہر طبقے میں یکساں مقبول ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پکوڑے نہ ہوں تو سردیوں کی شام ادھوری محسوس ہوتی ہے، جو اس سادہ مگر مقبول غذا کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

‘سانول یارپیا’ کے خوشگوار اختتام پر فینز تقسیم

جیو ٹی وی کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پرائم ٹائم ڈرامہ سیریل سانول …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے