
یم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہفتہ کی رات لگنے والی شدید آگ تقریباً 35 گھنٹے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی ہے۔ چیف فائر آفیسر کے مطابق اب کولنگ کا عمل جاری ہے، جس کے دوران کٹر مشینوں سے کھڑکیاں کاٹی جا رہی ہیں اور ہتھوڑوں کی مدد سے عمارت کی دیواریں گرائی جا رہی ہیں تاکہ ریسکیو آپریشن کو آگے بڑھایا جاسکے۔
جلی ہوئی عمارت سے مزید 4 لاشیں نکالی گئی ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی انسانی اعضا بھی برآمد ہوئے ہیں جو سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیے گئے ہیں۔ سانحے میں جاں بحق افراد کی کل تعداد 10 ہوگئی ہے جبکہ 22 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں تیسری منزل پر پھنسے ممکنہ افراد کی تلاش میں اتوار کی رات عمارت کے اندر داخل ہوئیں۔ محدود سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو ورکرز نے صدائیں لگا کر زندگی کی تلاش کی اور تھرمل کیمروں کی مدد سے جگہوں کی جانچ پڑتال کی۔ پولیس نے اہل خانہ سے لاپتہ افراد کے موبائل نمبر حاصل کرلیے ہیں اور 20 سے زائد فونز کی آخری لوکیشن گل پلازہ کی ہی آئی ہے۔
مختلف ذرائع کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 55 سے 65 کے قریب بتائی جارہی ہے، جو ایک بڑا المیہ ہے۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 70 سے زائد لوگوں کا لاپتہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ آگ لگے یا کسی کا کاروبار تباہ ہو، ہمیں آگ لگنے کے عوامل کا پتہ لگانا ہوگا۔ انہوں نے متاثرین کے نقصان کے ازالے تک ساتھ کھڑے رہنے کا یقین دلایا اور سندھ حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت سے معاوضہ دلوانے کی بات کی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گل پلازہ کا دوبارہ دورہ کیا اور امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 65 افراد لاپتہ ہیں، رش کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور عمارت کے پیچھے سے بھی ریسکیو جاری ہے۔ آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا، اس کا وقت نہیں بتایا جاسکتا۔
میئر نے وضاحت کی کہ ہفتہ کی رات 10 بج کر 27 منٹ پر کال آئی اور 15 منٹ میں فائر بریگیڈ پہنچ گئی، لہٰذا وقت پر نہ پہنچنے کی باتیں درست نہیں۔ گزشتہ روز جائے وقوعہ پر احتجاج کے دوران نعرے لگائے گئے تھے، تاہم میئر نے کہا کہ عوام کا دکھ سمجھتا ہوں اور وہ جذباتی ہیں۔
صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے سانحے پر اظہار یکجہتی میں آج (منگل) سوگ کے طور پر مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور دکانداروں سمیت ان کے ورکرز عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ سانحہ کراچی کے تجارتی مرکز میں ایک بڑا دھچکا ہے، جہاں آگ کی وجہ سے سینکڑوں دکانیں جل گئیں اور کئی خاندان سوگوار ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں کہ آگ کی اصل وجہ کیا تھی۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے دعائیں اور حکومتی امداد کی ضرورت ہے۔
UrduLead UrduLead